قومی کرکٹرز کی مختلف گروپس میں واپسی،دبئی سے مزید تقسیم کیوں؟کوروناکے خطرات

نیوزی لینڈ میں قومی ٹیم کی ناکام ترین پرفارمنس کے بعد قومی کھلاڑیوں کی وطن واپسی کا شیڈول بھی آگیا ہے،جسے دیکھ کر اندازا لگایا جاسکتا ہے کہ کھلاڑی مختلف گروہ میں مختلف فلائٹس سے واپس آئیں گے،اس طرح جیسے جاتے ہوئے قومی کھلاڑی کورونا وائرس کا شکارہوئے تھے ،ایسے ی وطن واپس آتے ہوئے بھی اس کا خوف رہے گا.

شیڈول کے مطابق پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ 9 جنوری کی شام کو آکلینڈ سے وطن واپس روانہ ہوگا.اسکواڈ بذریعہ دبئی 10 جنوری کی شام ساڑھے 6بجے لاہور پہنچے گا.ہیڈ کوچ مصباح الحق سمیت اسکواڈ میں شامل 19 ارکان ای کے 622 کی پرواز سے لاہور پہنچیں گے.

اظہر علی، عابد علی، فہیم اشرف، محمد عباس، نسیم شاہ، عمران بٹ اور ظفر گوہر لاہور پہنچیں گے.یاسر شاہ، شاہین شاہ آفریدی اور محمد رضوان بھی اسکواڈ کے ہمراہ لاہور پہنچیں گے.

مڈل آرڈر بیٹسمین حارث سہیل 10 جنوری کی شام 7:10 بجے ای کے 618 کی پرواز سے سیالکوٹ پہنچیں گے.

بیٹنگ کوچ یونس خان، سرفراز احمد، شان مسعود، فواد عالم اور سہیل خان ای کے 600 کی پرواز سے 10 جنوری کی صبح 10:35 بجے کراچی پہنچیں گے.

دوسری جانب پاکستان شاہینز کا اسکواڈ 7 جنوری کی شام کو آکلینڈ سے وطن واپس روانہ ہوگا.اسکواڈ بذریعہ دبئی 8 جنوری کی صبح 10:45 بجے لاہور پہنچے گا.ہیڈ کوچ اعجاز احمد سمیت اسکواڈ میں شامل 13 ارکان ای کے 624 کی پرواز سے لاہور پہنچیں گے.وہاب ریاض، عثمان قادر، عماد بٹ، عبداللہ شفیق، ذیشان ملک، حسین طلعت اور عماد بٹ لاہور پہنچیں گے.کپتان روحیل نذیر سمیت 5 ارکان ای کے 614 کی پرواز سے اسلام آباد پہنچیں گے.موسیٰ خان، حیدر علی، افتخار احمد اور خوشدل شاہ بھی اسلام آباد پہنچیں گے

دانش عزیز اور محمد حسنین ای کے 600 کی پرواز سے کراچی پہنچیں گے.

پاکستان کے کپتان بابراعظم اور شاداب خان بھی پاکستان شاہینز کے ہمراہ وطن واپس روانہ ہوجائیں گے.دونوں کرکٹرز انجریز کے باعث نیوزی لینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ کا حصہ نہیں تھے.بابراعظم 8 جنوری کی صبح 10:45 بجے ای کے 624 کی پرواز سے لاہور ایئرپورٹ پہنچیں گےشاداب خان 8 جنوری کی رات 11:20 بجے ای کے 614 کی پرواز سے اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچیں گے.

اس شیڈول کو دیکھتے ہوئے سوال ہوتا ہے کہ ایک ساتھ نیوزی لینڈ اترنے والے 54رکنی کرکٹرز واسٹاف کی نیوزی لینڈ سے واپسی بھی ایک ساتھ ہونی چاہئے تھی لیکن شیڈول فرق کی وجہ سے دبئی تک اگرانہوں نے الگ الگ آناتھا تو پاکستان میں کم سے کم 2 اسکواڈ ایک ساتھ اترتے اور اپنی ضروری ٹیسٹنگ کے بعد اپنے شہروں کی جانب روانہ ہوتےلیکن اب دبئی سے پاکستان کی طرف پرواز کرنے والے کھلاڑی مختلف فلائٹس سے مختلف شہروں میں اترٰیں گے .ضروری نہیں ہے کہ ان کی اس طرح چیکنگ کی جاسکے کہ جیسا حق تھا.صورتحال یہ ہے کہ اگر ان میں سے کوئی بھی کورونا کا شکار ہوا تو اس کی جنوبی افریقا کے خلاف ہوم سیریز میں شرکت پر سوالیہ نشان لگ جائے گا.پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کی صحت و سیکیورٹی کے حوالہ سے کیا اقدامات کئے ہیں،اس حوالہ سے تفصیلات بہتر نہیں ہیں.دوسری جانب کپتان قومی کپتان بابر اعظم جو زخمی ہونے کی وجہ ایک میچ بھی نہیں کھیل سکے،وہ بھی دیگر سے الگ ہوکر لاہور اتریں گے.

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *