انضمام الحق قومی ٹیم میں منتخب ہوئے تو عمران خان نے نیٹ پریکٹس کے دوران وسیم اور وقار یونس سے انہیں باﺅلنگ کروانے کو کہا اور پھر، ثقلین مشتاق نے دلچسپ انکشاف کر دیا

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں

پاکستان کے مایہ ناز سابق آف سپنر ثقلین مشتاق نے انضمام الحق کو پاکستان کا ’ویوین رچرڈز‘ قرار دیتے ہوئے عمران خان کی کپتانی میں پیش آنے والا انتہائی دلچسپ واقعہ سنا یا ہے۔ تفصیلات کے مطابق

ثقلین مشتاق نے کہا کہ ”مجھے اچھی طرح یاد ہے جب وہ پاکستانی ٹیم میں آئے، انہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں تھرتھلی مچا دی۔ وہ ہیلمٹ نہیں پہنتے تھے اور اس کے باوجود فرنٹ فٹ پر جا کر باﺅلرز کو ہک اور پل شاٹس مارتے تھے۔

اور جب انہیں پاکستانی سکواڈ کیلئے منتخب کیا گیا تو عمران خان ٹیم کے کپتان تھے۔ انہوں نے وسیم اکرم اور وقار یونس کو گیند دیتے ہوئے کہا کہ ٹیم میں آنے والے نئے لڑکے کو چیک کریں۔“

ثقلین مشتاق نے بتایا کہ ”عمران خان نے دونوں باﺅلرز کو اپنی پوری رفتار کیساتھ باﺅنسرز مارنے کو کہا۔ انضمام الحق نے پیڈ پہنے لیکن ان کے سر پر ہیلمٹ نہیں تھا لیکن اس کے باوجود نیٹ میں انہوں نے جس طرح کی بیٹنگ کی،

عمران خان بہت زیادہ متاثر ہو گئے اور انہیں ویسٹ انڈیز جیسی ٹیم کیخلاف ڈیبیو کرانے کا فیصلہ کر لیا جہاں انہوں نے سرپر ٹوپی پہن کر ہی باﺅلرز کو پل اور ہک شاٹس مارتے رہے۔“

سابق آف سپنر نے کہا کہ ”انضمام الحق ہمیشہ آگے بڑھنے کو تیار اور اگلے پاﺅں پر رہتے، وہ ڈرائیور کرتے، کٹ شاٹ مارتے اور ویسٹ انڈیز باﺅلرز کو دھوتے جس پر سب نے انہیں پاکستان کا ’ویوین رچرڈز‘ کہنا شروع کر دیاکیونکہ وہ بھی اپنا فرنٹ فٹ آگے لے جا کر باﺅلرز کو مڈ وکٹ پر زوردار شاٹس مارتے تھے۔“

انہوں نے بتایا کہ ”میں انضمام الحق کیساتھ بہت زیادہ کرکٹ کھیلا ہوں، اور انہیں نیٹ میں بہت زیادہ باﺅلنگ کروائی ہے، لیکن انہیں کبھی بولڈ نہیں کر سکا۔

وہ اپنی ٹانگیں بہت تیزی سے چلاتے تھے اور اس وجہ سے وہ گیند کے قریب آ کر ہماری بہت پٹائی کرتے۔ وہ ایک گیم چینجر اور پاور ہٹر تھے جن سے ساری مخالف ٹیمیں ڈرتی تھیں۔“

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *