تیسرا ٹی 20،کلین سویپ کی رسوائی کا ڈر،سرفرازی کے لئے سرفراز کی ضرورت،بڑی تبدیلیاں

4 نومبر 2018 کو پاکستان نے نیوزی لینڈ کو دبئی کے تیسرے ٹی 20 میں 47 رنز سے ہرا کر کلین سویپ کیا تھا اور اس سے قبل 18 جنوری 2018 کو اسی نیپیئر میں پاکستان نے کیویز کو 18 رنز سے شکست دے کر سیریز 1-2 سے جیتی تھی اور اپنی نمبر ون پوزیشن بچائی تھی. گرین شرٹس نے 181 کئے اور بلیک کیپس 163 کرسکے تھے .کیا وہ دن گزر گئے؟کپتان سرفراز احمد نے 29 کی اننگ بھی کھیلی تھی.

اسی میدان میں منگل 22 دسمبر کو گرین کیپس اور بلیک کپس تیسرے ٹی 20 میں ٹکرائیں گے.

پاکستان کو ٹی 20 میں 28 ماہ تک نمبر ون رکھنے والے بائولرز، ناپید ہوچکے ہیں اور حریف بائولرز پر کسی قسم کی دہشت رکھنے والے بیٹسمین خود دہشت زدہ ہیں. نمبر ون پوزیشن تو خواب ہوگئی. اب نیوزی لینڈ میں کلین سویپ سے بچنے کے لئے جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں. ٹیم کی یہ مایوس کن پرفارمنس 10 ماہ کی دوری پر موجود ٹی 20 ورلڈ کپ کی پوزیشن واضح کرنے کے لئے کافی ہے. کیا پاکستان صرف کمزور ٹیموں کو ہی شکست دینے کی صلاحیت رکھتا ہے یا پھرگھر میں ہی نمبر ون ہیں۔

سال کے آخری اور سیریز کے بھی آخری میچ کے لئے نیپئر کا میدان سج چکا ہے. بیٹنگ ٹریک پر لمبے اسکور کی توقع پاکستان سے کی جاسکتی ہے؟ بارش کی معمولی توقع بھی موجود ہے مگر میچ مکمل ضرور ہوگا.صبح 11 بجے سے ایک بار پھر پاکستانی ٹیم کا امتحان شروع ہوگا.سیریز تو پہلے ہی ختم ہوچکی ہے ، صرف کلین سویپ سے بچنا اہم مشن ہے.

پاکستان گزشتہ 24 ماہ میں صرف 7 میچ جیت سکا ہے اور 11 ہارا ہے جبکہ اس سے قبل سرفراز کے دور میں 25 میں سرفراز ہوا تھا اور صرف 4 ہارا تھا.

پاکستان کے تجربہ کار بیٹسمین محمد حفیظ کو پاکستان کا ٹاپ اسکورر بننے اور شعیب ملک کا ریکارڈ توڑنے کے لئے 42 رنز درکار ہیں.

قومی ٹیم میں ایک بار پھر سرفراز احمد کی شرکت خانہ پری کے لئے ہوگی؟ انگلینڈ کے دورے کے آخر میں سرفراز نے کھیلنے سے انکار کردیا تھا مگر اب وہ انکار نہیں کریں گے بلکہ چیلنج کے طور پر اس میچ میں شامل ہوں اور اپنی اہمیت واضح کریں. وہاب ریاض کی جگہ محمد حسنین آسکتے ہیں اورافتخار احمد کی شمولیت بھی ممکن ہے. 2 مرتبہ صفر پر آئوٹ ہونے والے عبد اللہ شفیق کو بنچ پر بٹھانا ضروری ہے یا نہیں اس کا جواب بھی آجائے گا.

Sharing is caring!

Comments are closed.