ریٹائرمنٹ کیوں لی،طعنے کون دیتا تھا،کس کی وجہ سے استعفی دیا؟ محمد عامر نے مداحوں کے ہر سوال کا جواب دیدیا

فاسٹ باؤلر محمد عامر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ریٹائرمنٹ کا فیصلہ جذباتی نہیں سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے۔

فاسٹ باؤلر نے کہا کہ ٹیم سے ڈراپ ہونے پر ریٹائرمنٹ نہیں لی، ٹیم مینجمنٹ نے لوگوں کے دماغ میں ڈالا میں ملک سے کھیلنا نہیں چاہتا، مکی آرتھر اور گزشتہ مینجمنٹ نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لینے پر سپورٹ کیا تھا۔ موجودہ مینجمنٹ پیچھے ہی پڑ گئی ، بار بار الزام لگایا کہ لیگ کے لیے ٹیسٹ کرکٹ چھوڑی ہے، سابق کرکٹرز 2010 کی غلطی کو جواز بنا پر مجھ پر تنقید کرتے ہیں۔محمد عامر نے کہا کہ میں نے سزا کاٹی اور معافی بھی مانگی اس کے بعد ٹیم میں کم بیک کیا لیکن میرا ماضی مجھے یاد دلایا جاتا ہے۔انہوں‌ نے کہا کہ ریٹائرمنٹ کے فیصلے سے بورڈ‌ کو آگاہ کردیا ہے، مداح‌ مجھ سے ریٹائرمنٹ واپس لینے کی درخواست کررہے ہیں لیکن میں‌ نے جذباتی طور پر فیصلہ نہیں‌ لیا.

فاسٹ باؤلر نے کہا کہ آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز ہارنے کے بعد کوچ اور بولنگ کوچ نے تنقید کرنا شروع کی اور پھر یہ کہا جانے لگا کہ لیگز  اور پیسے کے لیے ٹیسٹ کرکٹ چھوڑی ہے، کچھ لوگ ٹی وی پر بیٹھ کر کہتے ہیں‌ عامر نے کوئی احسان نہیں‌ کیا، میں‌ مانتا ہوں‌ کوئی احسان نہیں‌ کیا احسان اللہ کا ہوتا ہے.

محمد عامر نے کہا کہ این او سی کے تحت پہلے ہم دو لیگز کھیل سکتے تھے تین لیگز کھیلنے کی اجازت تو اب ملی ہے تو پھر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں‌ کہ میں‌ نے ٹیسٹ کرکٹ لیگز کی وجہ سے چھوڑی ہے، آپ نے یہ بول بول کر لوگوں‌ کے ذہن میں‌ سلو پوائزن کے طور پر یہ ڈالنا شروع کردیا کہ سب میرے خلاف ہوجائیں‌ اور پھر میرے خلاف باتیں‌ کی جانے لگیں. یہ سب چیزیں‌ مجھے پریشان کررہی تھیں‌، میں‌ کمزور نہیں‌ ہوں‌ اگر کمزور ہوتا تو 2010 کے بعد کرکٹ میں‌ نہیں ‌آتا، میں‌ واپس آیا اور ایشیا کپ ، چیمپئنز ٹرافی 2017 اور ورلڈ کپ میں‌ اچھی کارکردگی دکھائی، آج بھی میں‌ ون ڈے رینکنگ میں‌ ٹاپ 10 میں‌ ہوں. ٹیم کے کھلاڑی میرے ساتھ کھیلنا پسند نہیں‌ کرتے تھے اس وقت شاہد آفریدی اور نجم سیٹھی مجھے ٹیم میں‌ واپس لے کر آئے جس کے لیے ان کا شکر گزار ہوں. احسان مانی اور وسیم خان سے کوئی اختلاف نہیں‌ ہے میری ریٹائرمنٹ‌ لینے کی وجہ ٹیم مینجمنٹ کا رویہ ہے.

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *