بہت سے کھلاڑیوں کے وقار یونس سے مسئلے رہے ہیں،شعیب اختر بھی ٹیم مینجمنٹ کے خلاف بول پڑے

سابق قومی فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے کہا ہے کہ کرکٹ بورڈ میں 80 اسی سال کے بابے لانے سے کرکٹ آگے نہیں جائے گی،ہر دن نیا چئیرمین نیاکپتان نیا چیف سلیکٹر آیا ہوتا ہے۔

سما نیوز کے پروگرام میں اینکر پرسن بیرسڑ احتشام نے ان سے سوال کیا کہ شاہد آفریدی،شعیب اختر اور محمد عامر کا وقار یونس سے ہی کیوں مسئلہ رہا ہے؟سوال کا جواب دیتے ہوئے شعیب اختر کا کہنا تھا کہ بہت سے سنئیر کھلاڑیوں کو وقار یونس سے شکایات رہی ہیں۔

پی ایس ایل میں 6 کی بجائے 10 ٹیمیں کرنی چاہیے،انڈیا ایک نظام کے ذریعے سے اوپر آیا ہے،انہوں نے راہول ڈریوڈ کو انڈر 19 کرکٹ دے دی۔آئی سی سی نے رولز کو بہت سخت کردیا ہے اب تو کوئی آنکھ نہیں مار سکتا،ہمیں اب یس سر والے لڑکے چاہیے،سٹار اپنے نخرے بھی دکھاتا ہے اور پرفارمنس بھی دیتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں شعیب اختر کا کہنا تھا کہ والدہ کے ساتھ بہترین تعلق ہے ان کو راضی کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔میں ایک معجزاتی آدمی ہوں والدین کی دعاوں کے بغیر یہ ہونا ممکن نہیں تھا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.