عمران خان اور شاہد خان آفریدی نے تمام کرکٹرز کو پیچھے چھوڑ دیا

جی ہاں عمران خان اور شاہد خان آفریدی کرکٹ سے تو ریٹائرہو چکے ہیں مگر اب بھی ان دونوں کھلاڑیوں کی مقبولیت کم نہیں ہو رہی،گذشتہ روز پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے آفیشل پیج پر ایک سروے کروایا جس میں لوگوں کو بہترین دو کھلاڑیوں کا جوڑی سلیکٹ کرنا تھی۔لوگوں کی اکثریت, جو کہ 90 فیصد بنتی ہے, اپنی بہترین جوڑی کا انتخاب کیا ، یہ جوڑی کوئی اور نہیں عمران خان اور شاہد خان آفریدی کی جوڑی تھی۔کافی دنوں سے پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے آفیشل فیس بک پیچ سے سروے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے، جس میں پاکستان کے لیجنڈری کھلاڑیوں کو شامل کیا جاتا ہےاور انہیں خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے..

گزشتہ روز بھی پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک ڈریم پیئر کی سلیکشن کیلئے ایک سروے کروایا جس موجودہ کھلاڑی اور کچھ سابق کھلاڑی بھی شامل تھے،اس سروے میں عمران خان اور شاہد خان آفریدی کی جوڑی نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا اوپہلی پوزیشن حاصل کی. لوگوں کی اکثریت کا خیال تھا کہ عمران خان اور شاہد خان آفریدی پاکستان کی سب بہترین جوڑی ہیں,کاش لوگ انہیں اکٹھے کھیلتا دیکھ پاتے.

عمران خان اور شاہد خان آفریدی کو کرکٹ چھوڑے کافی عرصہ ہو چکا ہے مگر ابھی تک ان دونوں کھلاڑیوں کی مقبولیت میں ذرا برابر بھی کمی نہیں آئی۔ عمران خان کی کپتانی میں 1992 میں پاکستان نے ورلڈکپ جیتا،پاکستان اس وقت ایک کمزور ٹیم مانی جاتی تھی اور پاکستان اپنے ابتدائی میچ بھی ہار چکا تھا مگر عمران خان نے نہ خود ہمت ہاری اور نہ ہے ٹیم کو ہمت ہارنے دی۔جس کا نتیجہ یہ نکلا پاکستان کوائٹر فائنل کیلئے کولفائی کر گیا اس کے بعد پاکستانی ٹیم نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور فائنل میچ میں انگلیڈ کو عبرت ناک شکست دی اور پہلی دفعہ ورلڈ کپ اپنے نام کر لیا۔یہی وجہ ہے کہ آج تک پاکستان اپنے ہیرو عمران خان کو نہیں بھولی۔

دوسری طرف اگر ہم شاہد خان آفریدی کی بات کریں تو وہ اپنے جارحانہ انداز کی وجہ سے مشہورہیں, کرکٹ میں آتے ہی انہوں نے تیز ترین سنچری کا ریکارڈ اپنے نام کیااور اس کے بعد سب سے زیادہ چھکے مارنے والے کھلاڈی بن گئے۔2009 میں ہونے والے ٹی ٹونٹی ورلڈکپ میں شاہد خان آفریدی کی شاندار کارکردگی کی بنا پر پاکستان سمی فائنل میں کولیفائی کرنے میں کامیاب رہا۔ شاہد خان آفریدی نے سمی فائنل اور فائنل میچ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور مین آف دی میچ کرار پائے اور پاکستان پہلی دفعہ یونس خان کی کپتانی میں ورلڈ کپ جیتنے میں کامیاب رہا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *