بلوچستان کی عوام جی ٹی روڈ کے “چوڑے”، “چماڑوں” کی طرح نہیں جن کو ٹکٹ کا لالچ ہوگا سابق وزیراعلی بلوچستان ثناء اللہ زہری کے پنجابیوں کیخلاف نازیبا کلمات‎

کوئٹہ(مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی)سابق وزیراعلی بلوچستان ثناء اللہ زہری نے مسلم لیگ نواز گو خیرباد کہتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف سے بے وفائی کا شکوہ کرتے ہوئے پنجابیوں کے خلاف نازیبا کلمات کہہ دیے۔ثنا اللہ زہری کا کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے ن لیگیوں کو مخاطب کرتے ہوئےکہنا تھا کہ بلوچستان کی عوام عزت مانگتی ہے، بلوچستان کی عوام جی ٹی روڈ کے “چوڑے”، “چماڑوں” کی طرح نہیں ہے جن کو ٹکٹ کا لالچ ہوگا اور ان سے جو چاہے مرضی کروا لو، یہ بلوچستان ہے پنجاب نہیں۔ دوسری جانب چیف آف جھالاوان و سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء

اللہ خان زہری نے کہا ہے کہ ڈسنہ اوردھوکا دینا نواز شریف کی فطرت میں ہے 10سال پہلے میرے حلقہ احباب نے کہا تھا کہ نواز شریف دھوکہ دے گا لیکن میں نے انکی بات نہیں سنی اور اپنے بیٹے ،بھائی ،بھتیجے سمیت ساتھیوں کی قربانی دی شہداء زہری کا رتبہ کسی بھی سیاست سے بالاتر ہے اختر شاہی زئی عمران خان کی عدت پوری کئے بغیر ہی پی ڈی ایم میں شامل ہوگئے ہیںاختر مینگل کومشورہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو مینگل نہیں شاہی زئی لکھیں ،چیف آف آرمی اسٹاف ،فوج اور آئی ایس آئی کو ٹارگٹ کرنے والے مودی کے ایجنڈے پرکام کر رہے ہیںنواز شریف بیماری کا بہانہ کرکے دوسری بار پھر بھاگ گئے وہ پہلے یہاں آئیں اور معروضی حالات کا مقابلہ کریں پیٹ پرست اکٹھے ہوگئے ہیں
چیئرمین سینٹ باعزت شخص ہیں وہ میرے گھر صرف فاتحہ خوانی کیلئے آئے تھے مسلم لیگ (ن) کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے استعفیٰ دیدیا ہے،مسلم لیگ(ن) نے اگر ڈی سیٹ کیا تو دوبارہ الیکشن لڑوں گا۔یہ بات انہوں نے ہفتہ کوکوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کے سبزہ زار پر منعقدہ مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔نواب ثناء اللہ زہری نے کہا کہ 2010ء میں اپنی جماعت مسلم لیگ(ن) میں ضم کی اس سے پہلے نواز شریف جب آتے تھے تو وہ یہاں رلتے رہتے تھے میرے حلقہ احباب مگسی ،جمالی ،جام سمیت سب نے کہا کہ نواز شریف بے وفاہیں وہ استعمال کرکے چھوڑدیں گے میں نے میاںصاحب کو بھی کہا تھا کہ ہم صرف عزت چاہتے ہیں 2013ء کے انتخابات میں دوستوں نے مجھے کہا کہ نواز شریف بلوچستان میں اپنی حکومت نہیں بنائیں گے وہ فوج کو برا بھلاکہنے والوں کو حکومت دیں گے اختر شاہی زئی کی حکومت گرانے کابدلہ وہ ہم سے نہ لیں ۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے مجھے کہا کہ مسلم لیگ(ن)ہی بلوچستان میں حکومت بنائے گی اسوقت بھی میرے دوستوں نے کہا کہ نواز شریف سے خیر نہیں شر کی توقع رکھو جب چوہدری نثار کوئٹہ آئے تو انہوں نے خود تسلیم کیا کہ مسلم لیگ(ن) کو توقع سے زیادہ سیٹیں ملی ہیں اور جب ہم حلف لے رہے تھے تو فون آیا کہ ڈاکٹر عبدالماک بلوچ وزیراعلیٰ اور محمود خان جسے کہیں گے اسے گورنر بنایا جارہا ہے میں نے چوہدری نثار سے کہا کہ یہ جی ٹی روڈ کی سیاست ہوگی ہم اس سیاست کو نہیں مانتے انہیں بتادیا تھا کہ یہاں شخصی ووٹ ہیں مجھے تمام اتحادیوں نے پارلیمانی لیڈر تسلیم کیا ہے ہمیں لاٹھی سے ہانکا نہیں جاسکتا لیکن نواز شریف کی فطرت میں ڈسنا ہے اور انہوں نے ہمیں ڈسا۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے اپنے محسنوں جنرل جیلانی ،ضیاء الحق سمیت دیگر کو بھی نہیں بخشاتمام آرمی چیفس کے ساتھ لڑائی کی 2018ء میں جب پارٹی کاکوئی ٹکٹ لینے کو تیار نہیں تھا میں نے اسی ٹکٹ پر الیکشن لڑ کر سیٹ جیتی جبکہ جنرل (ر) عبدالقادر کو ہرانے کیلئے انکا حلقہ توڑ دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے کبھی بھی پارٹی سے شکوہ نہیں کیا تھالیکن جو سلوک ہمارے ساتھ روا رکھا گیا وہ چوک پر کھڑا کرکے کپڑے اتارنے کے مترادف ہے ۔انہوں نے کہا کہ کسی عورت کی طلاق ہو یا وہ بیوہ ہوجائے تب بھی وہ عدت پوری کرتی ہے اختر شاہی زئی نے عمران خان سے طلاق کے بعد عدت بھی پوری نہیں کی اور پی ڈی ایم میںشامل ہوگئے مینگل باعزت قوم اور میری جان ہیں لیکن اخترشاہی زئی جیسے لوگوںکی وجہ سے انکی قوم کے لوگ بھی تنگ ہیں آج وڈھ میں لڑکیوں کا ہائی اسکول نہیں ہے انسان اور جانور ایک ہی تالاب سے پانی پی رہے ہیںاخترشاہی زئی کو ننگ و ناموس کی بات کرتے ہوئے شرم آنی چاہئے اور میرا مشورہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو شاہی زئی ہی لکھیں ۔انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف اور مسلم لیگ(ن) میں واپس جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا نواز شریف لندن سے بیٹھ کر شہنشاہ عالم کی طرح احکامات جاری کر رہے ہیں وہ بلوچستان کے معاملات میں بولنے والے کون ہوتے ہیں بلوچستان یہاں بسنے والی اقوام کا ہے ہم نواز شریف کے ساتھ آخری دم تک کھڑے رہے لیکن انہوں نے ہمارے ساتھ بے وفائی اوربے عزت کیا آج وہ دوسری بار بیماری کا بہانہ بناکر باہر بیٹھے ہیں پہلے بھی وہ راتوں رات فرار ہوگئے تھے کریم نوشیروانی نے میاں نواز شریف کو کہا تھا کہ میاں صاحب میں نہیں بلکہ آپ ہمیں چھوڑ کر گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ فوج اور آئی ایس آئی سمیت دیگر اداروں کو ٹارگٹ کرنا مودی کا ایجنڈا ہے نصرت بھٹونے اصولی موقف پر قائم رہتے ہوئے جنرل ضیاء کونظرثانی کی درخواست نہیں لکھی جبکہ ذوالفقار علی بھٹو نے معافی کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے تختہ دار پر چھڑ گئے ۔انہوں نے کہا کہ اب میں دیکھوں گا کہ بلوچستان میں مسلم لیگ(ن) ایک بھی نشست کیسے جیتتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ قوم پرست نہیں بلکہ پیٹ پرست اکٹھے ہوگئے ہیں یہ کاغذی شیر ہیں جن کی نہ دانت ہیں اورنہ ناخن ہیں عمران خان کی گود میں بیٹھنے والے مایوس ہوکر پی ڈی ایم میں چلے گئے اور 15ارب کے منصوبے بھی لئے آج بھی وڈھ زبوں حالی کا شکار ہے جبکہ ہم نے اپنے علاقے میں شہید سکندرآباد یونیورسٹی سمیت دیگر کئی منصوبے بنائے ۔انہوں نے کہا کہ آج سے جتنا ممکن ہوگا نواز شریف کی مخالفت کروںگا اور گلی گلی ،گاوںگاوں نوازشریف اور اختر شاہی زئی کا اصل روپ عوام کو بتاوں گا میرا نواز شریف سے کوئی واسطہ نہیں ۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی رکنیت سے مستعفی ہوگیا ہوںجبکہ آئندہ کا لائحہ عمل حلقہ احباب اور قوم سے مشاورت کے بعد طے کروںگا ۔انہوں نے کہا کہ14دن تک پارٹی کی طرف سے کسی بھی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہواچیئرمین سینٹ میرے گھر صرف فاتحہ کیلئے آئے تھے پیپلز پارٹی یا باپ میں شمولیت کا ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ اگر مسلم لیگ(ن) ڈی سیٹ کرنا چاہتی ہے تو وہ اپنی خواہش پوری کرلیں میں دوبارہ الیکشن لڑوں گا اورعوام یہ ثابت کریں گے کہ وہ مسلم لیگ(ن) کے ساتھ ہیں یامیرے ساتھ ہیں ۔ 

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *