ڈالر کی قیمت بری طرح گرنا شروع 150روپے کے قریب پہنچنے کا امکان

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان میں ڈالر کی قیمت رواں ہفتے میں 1روپے 17پیسے تک گر گئی ہے ۔ ماہرین نے توقع ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ سال جنوری تک ڈالر کی قیمت گر کر 150روپے تک پہنچ جائے گی جبکہ ڈالر کی گرتی قیمت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ملک محمد بوستان نے بھی آنے والے دنوں میں امریکی ڈالر کی قدر مزید گھٹ کر 155 روپے کی کم ترین سطح پر آنے کی پیشگوئی کی ہے ۔ ‎ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں

گزشتہ ہفتے بھی ڈالر کے مقابلے میں روپیہ تگڑارہا، جس کے بعد انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 6 ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ۔ انٹربینک اوراوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 160 سے بھی نیچے آگئی ہے۔ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ملک محمد بوستان نے آنے والے دنوں میں امریکی ڈالر کی قدر گھٹنے کی پیشگوئی کی ہے جبکہ دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کوغیر ملکی قرض میں ریلف ملنے کے بعد امکان ہے کہ آئندہ سال کے آغاز پر ڈالر 150 روپے کی سطح پر پہنچ سکتا ہے۔
دوسری جانب سرمایہ کاروں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی انتخابات میں چاہے ڈونلڈ ٹرمپ جیتیں یا جو بائیڈن لیکن ایک عرصے سے مندی کا شکار ڈالر کی صورتحال بہتر ہونے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔قومی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق
برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مارچ میں ڈالر بلندی کی سطح پر پہنچ گیا تھا لیکن اس وقتوہ مذکورہ  اعشاریے سے 9 پوائنٹس نیچے ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ 2017 میں اپنی بدترین سطح تک دوبارہ پہنچ جائے گا جس کے بعد ماہرین کا خیال ہے کہ آئندہ آنے والے کئی سالوں تک ڈالر کی سطح نیچے ہی رہے گی۔ماہرین اور سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ جو بائیڈن کی فتح سےکرنسی مزید کمزور ہو گی کیونکہ وہ ممکنہ طور پر ایسی پالیسیاں متعار ف کرائیں گے جس سے ڈالر پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔اسی طرح کچھ کا ماننا ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ مزید 4سال برسر اقتدار رہتے ہیں تو وہ ڈالر کے لیے صحیح اور واضح سمت کا تعین نہیں کر سکیں گے، البتہ ان کی چین مخالف حکمت عملی سے ڈالر کی عالمی منڈی میں مضبوطی اور بہتری کا امکان موجود ہے۔گزشتہ ماہ برطانوی نیوز ایجنسی کے پول کے مطابق ماہرین نے کہا تھا کہ ایک سال میں ڈالر کے مقابلے میں یورو کے 1.21ڈالر اوپر جانے کا امکان ہے جو موجودہ مارکیٹ کی سطح سے 4فیصد زیادہ ہے۔یہ چند محرکات ہیں جو طویل دورانیے میں ڈالر کی قدروقیمت پر اثرانداز ہوں گے۔ایک ماہر نے کہا ہے کہ سب سے زیادہ اثر کورونا کی وجہ سے کم کی گئی شرح سود سے پڑا، یہ ڈالر کے لیے انتہائی منفی ہے اور اس کی اصل قدر سے کہیں دور ہے۔ 

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *