پاکستانی نژاد آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ کے بھائی کو دہشتگردی کا جھوٹا الزام لگانے پر ساڑھے 4 سال قید

پاکستانی نژاد آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ کے بھائی کو دہشت گردی کا جھوٹا الزام لگانے کا جرم ثابت ہونے کے بعد ساڑھے 4 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے ۔ ارسلان طارق خواجہ کو اپنے ساتھی محمد نظام الدین کی نیو ساؤتھ ویلز یونیورسٹی میں ایک خاتون کے ساتھ دوستی پر جلن ہورہی تھی ، ان کی دوستی سے پریشان ارسلان خواجہ نے اعتراف کیا کہ اس نے اپنے ساتھی کی نوٹ بک میں جعلی اندراجات بنا کر اگست 2018ء میں اپنے ساتھی پر دہشت گردی کی سازش کا جھوٹا الزام عائد کیا ۔

ارسلان خواجہ نے اپنے یونیورسٹی کے ساتھی کی نوٹ بک میں 20 سے زیادہ صفحات پر جعلی اندراجات کرنے کا اعتراف کیا جس کے بعد انہوں نے اس نوٹ بک کو یونیورسٹی کے عملے کے حوالے کردیا۔

اس نوٹ بک میں آسٹریلیوی وزیراعظم میلکم ٹرن بل اور گورنر جنرل کو مارنے کی دمکیاں دینے کے ساتھ ساتھ پولیس سٹیشنز ،میلبورن میں باکسنگ ڈے ٹیسٹ میچ اور دیگر مشہور جگہوں پر حملوں کی دھمکیاں دی گئی تھیں ۔

نظام الدین کو چار ہفتوں کے لئے قید میں رکھا گیا اور آسٹریلیوی میڈیا نے اسے غلط طور پر دہشت گرد قرار دیا تاہم پولیس نے پتا لگالیا کہ انہیں پھنسایا گیا ہے۔ نیو ساؤتھ ویلز ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج رابرٹ ویبر نے ارسلان طارق خواجہ کو ساڑھے چار سال قید کی سزا سنائی۔ جج ویبر نے کہا کہ ارسلان خواجہ کے ’ناقابل معافی‘ اقدامات کے باعث نظام الدین کو حقیقی اور سنگین نتائج کا خطرہ درپیش رہا۔

ارسلان خواجہ نے 2017ء میں حکام کو ٹیلی فون پر ایک اور شخص کے بارے میں جھوٹی اطلاعات دی تھیں جن سے وہ حسد کرتے تھے، انہوں نے اس شخص پر ویزہ اور دہشت گردی سمیت غیر ملکی سرزمین پر ٹریننگ لینے کے الزامات لگائے ۔ ارسلان خواجہ کے بھائی اور پاکستانی نژاد آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنے بھائی کو اپنا آئیڈیل مانتے تھے، 2011ء سے اب تک آسٹریلیا کے لئے 44 ٹیسٹ میچ کھیلنے والے عثمان خواجہ کا کہنا تھا کہ اپنی زندگی کے اس دور تک ارسلان خواجہ ایک آئیڈیل شہری تھے ۔

Sharing is caring!

Comments are closed.