کھلاڑیوں کا اصل کام انگریزی سیکھنا نہیں بلکہ میدان میں کھیلنا ہے

سابق سپنر ثقلین مشتاق نے انگلش بولنے کے خمار میں مبتلا پاکستانی کھلاڑیوں کو میدان میں کارکردگی کی اہمیت سے روشناس کروادیا ۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے 43 سالہ ہیڈ آف پلیئرز ڈویلپمنٹ ثقلین مشتاق نے نیشنل سٹیڈیم ،کراچی میں بات کرتے ہوئے فرفر انگریزی بولنے کے لیے محنت کرنے والے کھلاڑیوں کو میدان میں کارکردگی پر زیادہ انحصار کرنے کی اہمیت بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو کسی بھی زبان سیکھنے کو اپنا نصب العین بنانے کی بجائے کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیئے ۔

انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کا اصل کام انگلش زبان سیکھنے کو اہمیت دینے کی بجائے گرائونڈ میں کارکردگی دکھانا ہے ۔ قومی ٹیم کے سابق آف سپنر نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو اپنی مادری زبان اردو بولنے پر فخر کرنا چاہیے ۔

ٹیم کے ڈریسنگ روم تک رسائی سے کھلاڑیوں اور ان کے درمیان دوریاں پیدا ہونے کے سوال پر ثقلین مشتاق کا کہنا تھا کہ یہ سب اس بات پر منحصر ہے کہ وہ کھلاڑیوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو کس طرح بناتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کے ساتھ اعتماد پیدا کرنے میں کچھ وقت لگے گا، آپ یہ کام صرف ایک یا دو ملاقاتوں سے نہیں کرسکتے ہیں لیکن آپ کو کھلاڑیوں سے دوستی کرنے کے لئے مستقل بنیادوں پر ملنے کی ضرورت ہے۔ ایک بار جب آپ ان کے دلوں میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے تو آپ ان کے ساتھ بہترین طریقے سے ہم آہنگی کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *