”پاکستان کرکٹ کیلئے کام کرنا آنکھیں کھول دینے والا تجربہ رہا“ وسیم خان مستقبل کے حوالے سے تذبذب کا شکار مگر کیوں؟

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) وسیم خان مستقبل کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہو گئے ہیں جن کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ کیلئے کام کرنا ایک آنکھیں کھول دینے والا تجربہ رہا، اب مجھے ایسا فیصلہ کرنا ہے جو پاکستان کرکٹ کیساتھ میری فیملی کیلئے بھی درست ہو۔

تفصیلات کے مطابق چیف ایگزیکٹیو وسیم خان کا پی سی بی کے ساتھ 3سالہ معاہدہ فروری 2022ءمیں ختم ہو گا اور فریقین میں طے پایا تھا کہ ایک سال باقی رہنے پر باہمی اتفاق رائے سے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا، اس لحاظ سے آئندہ سال جنوری معاہدے میں توسیع کے حوالے سے کسی نتیجے تک پہنچنا ضروری ہے تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی تو وسیم خان کی خدمات سے مزید فائدہ اٹھانے کا خواہاں ہے اور اس حوالے سے فریقین میں ابتدائی بات چیت بھی ہوئی ہے لیکن وسیم خان تذبذب کا شکار ہیں۔

غیر ملکی کرکٹ ویب سائٹ کو دئیے گئے انٹرویو میں وسیم خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ کیلئے کام کرنا ایک آنکھیں کھول دینے والا تجربہ رہا لیکن حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ اکثریت نے ہمیں سپورٹ کیا کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم کیا مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور کیا تبدیل ہونا ضروری ہے،دوسری جانب ایک مختصر حلقہ ایسا بھی ہے جس کی زبانی مخالفت سے زندگی میں ایسی مشکلات ہوتی ہیں جو نہیں ہونی چاہئیں، مجھے ایسا فیصلہ کرنا ہے جو پاکستان کرکٹ کے ساتھ میری فیملی کیلئے درست ہو، احساس ہے کہ ابھی جتنا کام کرلیا اس کو تکمیل تک پہنچانا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے معاہدے میں توسیع کی پیشکش کر دی جو ایک بڑا فیصلہ ہے لیکن ابھی میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں، پوری سوچ بچار اور اپنی فیملی سے بات کرنا ہے، بورڈ نے 5 سالہ پلان بنا لیا، احسان مانی چاہتے ہیں کہ میں اس کو مکمل کروں،فیوچر ٹور پروگرام اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ایونٹس کی میزبانی کے معاملات چل رہے ہیں، میں توسیع پر غور کرنا چاہتا ہوں مگر یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ کتنے سال کیلئے ہوگی۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *