مجھے بس ایک بچہ چاہیے

یہ کہانی حقیت پر مبنی ہے اس میں جتنے بھی کردار ہیں وہ فرضی ناموں پر رکھے گئے ہیں تاکہ جس کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آیا ہے اس کی عزت محفوظ رہئ اور اس پر کوئی حرف نہ اٹھا سکے

اس کہانی کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہم اس سے سبق حاصل کریں اور عورت پر جو ظلم ہمارے معاشرے میں رشتوں کی چکی میں پیس کر کیا جا رہا ہئ وہ نہ کیا جاسکے اس کے حقوق میں اس کی پاماکی نہ ہو اسے ایسی ہی عزت دی جانی چاہیے

جیسی عزت ہم اپنی بہنوں بیٹیوں کے لیے ان کے سسرال میں طلب کرتے ہیں اسے ان کاموں پر مجبور نہ کیا جائے جو اس کے بس میں نہیں ہوتے ورنہ وہ بھی ایسا قدم اٹھا سکتی ہے جیسا اس عورت نے اٹھایا یہ کہانی اسی کی زبانی سینے۔جاری ہے۔

اس روز میرے شوہر نے مجھے بہت بے دردی سے مارا پیٹا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ میری ساس نے میرے شوہر کو میرے خلاف اکسایا تھا کہ یہ عورت پیدائشی بانجھ ہے

اور اس عورت سے اولاد نہیں ہونی اس کو چھوڑ اور کسی دوسری عورت سے شادی کر لے میری ساس کی انہی باتوں کی وجہ سے میرا شوہر بات نے بات مجھے ڈانٹتا رہتا اوراس روز تو اس نے حد ہی کر دی مجھے مارنے پیٹنے کے بعد بھی سکون نہ ہوا تو مجھے کہنے لگ

کہ اگر تم ماں نہ بن سکی تو میں تمیں چھوڑ دوں گا اور کسی دوسری عورت سے شادی کر لوں گا میرا جیٹھ شوہر کا بڑا بھائی پاس ہی کھڑا تھا اور سارا منظر دیکھ رہا تھا اس سے رہا نہ گیا تو اس نے میرے شوہر کو برا بھال کہنا شروع کردیا

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *