بڑی عمر کی لڑکی سے شادی کے فاہرے

صرف ہمارے معاشرے میں نہیں بلکہ دنیا کے تقریبا ہر معاشرے میں چھوٹی عمر کے لڑکے کی اپنے سے بڑی عمر کی لڑکی سے شادی کرنے کو ٹھیک نہیں سمجھا جاتا اگر کوئی کر لے تو اُسے طرح طرح کی باتیں سننا پڑتی ہیں لیکن اب ایک تحقیق میں اس کے حیران کن فوائد سامنے آگئے ہیں۔

خاوند کی عمر زیادہ اور بیوی چھوٹی ہو، یہ صرف بنی بنائی باتیں ہیں۔ بڑی عمر سے شادی کرنے میں کوئی نقصان ہوتا تو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المومنین خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا سے شادی نہ کی ہوتی۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے شادی کی تو ام المومنین خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کی عمر 40 برس تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت 25 برس کے تھے ۔

یہ تو دینی لحاظ سے ثابت ہوگیا کہ بڑی عمر کی لڑکی سے شادی کے کوئی نقصانات نہیں اب تھوڑی سی سائنسی تحقیق پر نظر ڈال لیتے ہیں ۔ ایک تحقیق کے مطابق اگر مرد خود سے 10 سال بڑی عمر کی عورت سے شادی کرتا ہے تو ان کی زندگی کافی پر سکون گزرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق بڑی عمر کی عورت کم عمر مرد کے ساتھ ازدواجی تعلقات کو پسند کرتی ہے اور مرد عورت کی خود اعتمادی، ذہنی پختگی پسند کرتا ہے جس کی وجہ سے یہ رشتہ اور مضبوط ہوتا ہے۔ کیونکہ شادی کا تعلق نفسیاتی مضبوطی کا تعلق ہے، اگر آپ چھوٹی چھوٹی باتیں نظر انداز کر دیں تو زندگی خوشگوار ہوجاتی ہے۔بڑی عمر کی عورت ایک اچھی ماں کے طور پر اپنے بچوں کا خیال رکھتی ہے، خاوند کو کاروبار یا نوکری کے بارے میں اچھے مشورے دیتی ہے، گھریلو معاملات کو اچھے سے دیکھتی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.