بیوی کو جانو جانو کہنے والے ایک دفعہ ظرور پڑھیں

االلہ تعالی نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس پوری کائنات کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے ان کی پوری زندگی اسلام کے اصولوں پر مبنی ہے اللہ تعالی نے جو کتاب قرآن مجید ان پر نازل کی ہے وہ قیامت تک محفوظ رہے گی اوراس میں سے تعلیمات اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو دی ہیں اس کا عملی جامہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں پیش کیا ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اسلام کی تعلیمات کے مطابق ہے ان کی زندگی سے ہمیں رہنمائی ملتی ہے کہ ہم نے زندگی کس طرح سے گزارنی ہے اگر ہم ان کی اطاعت کریں گے تو دنیا آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کریں گے

اسلام آنے سے پہلے خواتین کے ساتھ بہت برا سلوک کیا جاتا تھا انہیں زندہ رہنے کا حق نہیں دیا تھا لیکن اسلام نے زندہ رہنے کا حق دیا ان کے کچھ حقوق و فرائض کا تعین کیا جس کے بعد عورتوں کو معاشرے میں ایک مقام ملا دوستو آج ہم آپ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ علیہ وسلم اورحضرت عائشہ کے رشتے کے بارے میں بتائیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس نام سے انہیں بلاتے تھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنی شریک حیات یعنی کے اپنی بیوی کو کس نام سے پکارا جائے یعنی کے اس کے نام کے علاوہ کسی اورنام سے اسے پکارنا جائز ہے یا نہیں اوراگر جائز ہے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کو کس نام سے پکارتے تھے اگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کو کسی نام سے پکارتے تھے تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ہم بھی اپنی شریک حیات کو کسی نام سے پکارتے ہیں کوئی ایسا نام جو پیار کے طور پر رکھا جائے پیار کی علامت ہو تو اس وجہ سے ہم ایک سنت کام کر رہے ہوتے ہیں جس کا ہمیں ثواب بھی ملتا ہے دوستو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی زندگی ہمارے لیے ایک بہترین نمونہ ہے ان کی زندگی سے ہمیں ملتا ہے کہ انسان کو ایک شادی شدہ زندگی کس طرح سے گزارنی چاہیے

ایک بیوی کے کیا حقوق اور ایک مرد کے کیا حقوق ہے جو اسے پورے کرنے چاہییں اگر آپ اپنی بیوی کو کسی پیار کے نام سے بلاتے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک فرمان ہے وہ بھی سن لیجئے دوستو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ بہت سی احادیث بیان کی ہیں جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عائشہ کو کس نام سے بلایا کرتے تھے لیکن اس کا مفہوم جو ہے وہ ہم آپ کے ساتھ شیر کرنے جا رہے ہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو پیار سے حمیرا کے نام سے بھی -بلاتے تھے جس کے لفظی معنی ایک چھوٹا سرخی مائل رنگ ہے لیکن علماء کا کہنا ہے کہ اتنا گورا رنگ جو سورج کی شعاعوں کی وجہ سے سرخی مائل ہوجائے یعنی کہ اس کی وجہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں حمیرا کے نام سے بلایا کرتے تھے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت عائشہ رضی اللہ کے درمیان جوتعلقات تھے وہ بہت خوبصورت تھے جن سے آج ہمیں رہنمائی حاصل کرنی چاہیے کہ ہم اپنی ازدواجی زندگی کس طرح سے گزاریں اور کسی طرح سے اس سے سبق حاصل کرنا چاہئے

Sharing is caring!

Comments are closed.