حافظه قرآن ہوں پانچ وقت کی نماز پڑھتی ہوں، ایک گھریلو لڑکی طوائف کیسے بنی

سلام آباد قصہ ایک نیک طوائف کا ۔۔۔ کچھ دن پہلے ایک خاتون سے دوپہر کو ملاقات ہوئی جو جسم فروش تھیں رات کو چونکہ وہ روزی کمانے میں مصروف ہوتی ہیں اس وجہ سے دن میں ملاقات کرنی پڑی ویسے بھی ایک مسلمان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی کی روزی کمانے کے وقت اس کو مشکل میں ڈالے، انہوں نے بہت عزت کے ساتھ ڈرائنگ روم میں بٹھایا ، خاطر مدارت کی

ان کا حال پوچھنے کے بعد میں نے سوال کیاکہ آپ اس بے لذت کام میں کیسے پھنس گئیں ، ایک لمحے کیلئےان کے چہرے پر اداسی چھلکی پھر مسکرا کر بولیں کہ عشق ہوگیا تھا اور محبت میں اندھی ہوکر گھر سے بھاگ نکلی کچھ دن محبوب نے چار دیواری میں میری چادر اتار کر دل و جان سے محبت کی اور اس کے بعد نہ سر ڈھانپنے کو دیوار رہی نہ چادر رہی جب واپسی کا سفر کرنے کا سوچا تو خیال آیا کہ بھاگنے کا فیصلہ تو میرا تھا اب اگر گھر گئی تو جو تھوڑی بہت والدین کی عزت بچی ہے وہ بھی لوگ تارتار کر دیں گے رہنے کو ایک جگہ ٹھکانا ملا جہاں مجھ جیسی لڑکیاں تھیں اور بس پھر جسم ہی روزی روٹی کا سبب بن گیا ،، سوال کیا کہ والدین تو معاف کر ہی دیتے ہیں ان کا نرم دل ہوتا ہے تو ایک بار چلی جاتیں تو مسکرا کر بولی معاف تو اللہ بھی کر دیتا ہے لیکن لوگ معاف نہیں کرتے عورت کا منہ کالا ہو جائے تو پھر یہ دنیا والے کبھی گورا ہونے نہیں دیتے ، مرتے دم تک کالا ہی رہتا ہے، سوال کیا کہ چلیں بھیک مانگ لیتیں کم سے کم جسم فروشی سے تو اچھا کام ہے تو بولیں یہ سب کتابی باتیں ہیں کوئی کسی بھکارن کو کرائے کا کمرہ بھی نہیں دیتا جھونپڑی میں بھی نہیں رکھتا عزت بیچ کر کم سے کم عزت سے تو رہ لیتی ہوں ، اپنا گھر ہے اپنا بستر ہے اس دنیا میں اسی کی عزت ہے جس کے پاس پیسا ہے یہ دنیا تو منافق لوگوں سے بھری پڑی ہے جو نیکی کا درس دیتے ہیں اور اندر سے شیطان ہیں، ‎کسی کو کہیں کہ طوائف سے شادی کرے گا تو وہیں بولتی بند ہو جائے گی، سوال کیا کہ محبت کیا ہے تو کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد بولیں کہ محبت بھی ایک دھندہ ہے، مرد اپنی رقم انویسٹ کرتا ہے

 

Sharing is caring!

Comments are closed.