لڑکا اور لڑکیوں کے بالغ ہونے کی

حضرت سعدیؒ بیان کرتے ہیں ،میرے بچپن کی بات ہے ایک دن میں نے ایک عالم سے پوچھا کہ انسان کے بالغ ہوجانے کی نشانی کیا ہے ؟اس نے جواب دیا پندرہ سال کی عمر کو پہنچ جانا اس کے بعد اس دانا شخص نے کچھ اور نشانیاں بھی بتائیں ۔

مثلاََ شادی کرنے کی ٰخواہش پیدا ہونا وغیر ہ اور یہ ساری باتیں بتانے کے بعد۔ بولا ان سب باتوں کے علاوہ انسان کے بالغ ہوجانے کی حقیقی علامت یہ ہے کہ وہ خدا کو راضی کرنے کے لئے اس سے زیادہ کوشش کرے جتنی کوشش دنیاوی مال ودولت حاصلے لئے کرتا ہے۔ کیونکہ یہی سمجھ عقل کے پختہ اور اس کے صاحب فہم ہونے کی نشانی ہے ۔اگر کسی میں یہ نشانی نہ ہو پائے تو خواہ وہ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گیا ہو اسے بالغ خیال نہ کرنا

بنی اسرائیل میں ایک نوجوان تھا بہت خوبصورت اور نہایت پاک باز، وہ نوجوان ٹوپیاں اور ٹوکریاں بنا کر بیچتا تھا، ایک دن بازار میں ٹوپیاں بیچتے بیچتے بادشاہ کے محل کیطرف نکل پڑا۔ محل میں ایک حسین شہزادی کی اس پر نظر پڑی تو اس نے اپنی خادمہ کو بھیج کر اس نوجوان کو بلوا لیا۔ نوجوان نے سمجھا کہ شاید شہزادی صاحبہ نے کچھ خریدنا ہے وہ خادمہ کے ساتھ محل میں داخل ہوا تو خادمہ دروازہ بند کر کے باہر سے چلی گئی اور شہزادی برہنہ حالت میں سامنے آگئی اور بولی اے حسین نوجوان میرے قریب آ اور میری خواہیش پوری کرو۔ نوجوان نے کہا کہ اے شہزادی اس رب سے ڈر جو بڑا بے نیاز ہے،شہزادی نہ مانی اور دھمکی دینے لگ پڑی کہ اگر تو نے میری تسکین پوری نہ کی تو میں بادشاہ سلامت کے پاس شور مچاتی اسی حالت میں جاونگی اور کہوں گی کہ اس نوجوان نے میری عزت زبردستی لوٹنے کی کوشش کی ہے۔ اب نوجوان بڑا پریشان ہوا اور کچھ سوچ کر بولا اچھا مجھے نہانے کی اجازت دی جائے تا کہ میں صاف ستھرا ہو جاؤں. شہزادی بولی ٹھیک ہے پر یہاں نہیں نہانا تم نے کیوں کے تم بھاگ جاوگے اس خادمہ کے ساتھ چالیس فٹ اوپر محل کی چھت پر جا کر نہاؤ۔ نوجوان مان گیا اور اوپر چلا گیا وہاں جا کر جو اس نے دیکھا کہ اب کیا کروں تو اس کے زہین میں اس کے سوا کوئ اور حل نہ آیا کہ چالیس فٹ چھلانگ ہی لگا دی جاے، اس نے چھلانگ لگاتے وقت دعا پڑی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.