پنجاب میں اسموگ؛ اینٹوں کے بھٹے7 کے بجائے 25 نومبر سے بند کئے جائیں، بھٹہ مالکان

لاہور: پنجاب حکومت اسموگ کے پیش نظر7 نومبرسے 31 دسمبر تک اینٹوں کے بھٹے بند کرنے کا اعلان کرچکی ہے تاہم بھٹہ مالکان کا کہنا ہے حکومت اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے ورنہ صوبے میں اینٹوں کی قلت اوران کی قیمت میں کئی گنااضافہ ہوسکتا ہے۔

بھٹہ مالکان کے مطابق رواں سال کے آغازمیں شدید بارشوں کی وجہ سے بھٹے بند رہے ، اس کے بعد مارچ میں کورونا کی وجہ سے جب لاک ڈاؤن لگا تو تعمیراتی شعبہ متاثرہوا، اینٹوں کی تیاری اورفروخت بھی بند ہوگئی اوراب جب 6 ماہ بعد جب دوبارہ بھٹوں نے کام شروع کیاتھا اب ااسموگ کے نام پر پھر بھٹے بندکئے جارہے ہیں جس سے اس انڈسٹری سے وابستہ ہزاروں افرادمتاثرہوں گے۔

بھٹہ مالکان ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل مہرعبدالحق نے ایکسپریس کوبتایا کہ کوئلہ کی قیمتیں بڑھنے سے اینٹ کی قیمت پہلے ہی بہت زیادہ ہے، گزشتہ سال اس ماہ میں کوئلہ کی فی ٹن 4 ہزار ساڑھے 7 ہزار روپے ٹن تک پہنچ گیا ہے اسی طرح کوئلے کی ٹرانسپورٹ کا کرایہ جو گزشتہ سال 3 ہزارروپے تک تھااب ساڑھے 4 ہزار سے بڑھ گیاہے۔ اسی طرح گزشتہ سال اسی ماہ میں اینٹ کی قیمت 9 سے 10 ہزار روپے فی ہزار تھی جو اس وقت 12 سے 13 ہزار روپے میں فروخت ہورہی ہے۔ ہماری حکومت اورمعرزعدلیہ سے اپیل ہے کہ بھٹوں کو 7 نومبرکی بجائے 25 نومبرتک کام کرنے دیا جائے، اس عرصے میں اینٹوں کو پکانے کے لئے آگ کا جو چکر چل رہا ہے وہ ایک چکر مکمل ہوجائے گا اور مالکان بڑے نقصان سے بچ جائیں گے۔ اسی طرح پنجاب کے وہ علاقے جہاں اسموگ تاخیرسے شروع ہوتی ہے وہاں بھٹے اسی حساب سے بندکئے جائیں ۔ اس وقت بھٹے بند کرنے سے تعمیراتی شعبے کو شدید نقصان پہنچے گا۔

بھٹہ مالکان کا کہنا ہے کہ حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ 31 دسمبر کے بعد روایتی بھٹوں کو کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی تو اس فیصلے پر بھی نظرثانی کی جائے ، حکومت بھٹہ مالکان کو پہلے زگ زیگ ٹیکنالوجی پرمنتقلی کے لئے سہولتیں اوربلاسود قرضے فراہم کرے۔ اس کے بعد پرانے بھٹے بند کئے جائیں۔ انہوں نے تجویزدی کہ حکومت ایک تو کوئلے کی قیمتیں کنٹرول کرے اور دوسرا بھٹے مرحلہ وار بند کئے جائیں ورنہ انیٹوں کی قلت ہوجائے گی اور قیمتیں بھی مزید بڑھ جائیں گی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.