خان صاحب تم احمقوں کی جنت میں رہتے ہو ۔۔۔۔نہ تمہیں بات کرنی آتی ہے اور نہ ہی ۔۔۔۔ آستینیں چڑھا کر مخالفین کو دھمکیاں دینے والے وزیراعظم عمران خان کو پاک فوج کے ریٹائرڈ افسر نے حیران کن مشورہ دے دیاخان صاحب تم احمقوں کی جنت میں رہتے ہو ۔۔۔۔نہ تمہیں بات کرنی آتی ہے اور نہ ہی ۔۔۔۔ آستینیں چڑھا کر مخالفین کو دھمکیاں دینے والے وزیراعظم عمران خان کو پاک فوج کے ریٹائرڈ افسر نے حیران کن مشورہ دے دیاخان صاحب تم احمقوں کی جنت میں رہتے ہو ۔۔۔۔نہ تمہیں بات کرنی آتی ہے اور نہ ہی ۔۔۔۔ آستینیں چڑھا کر مخالفین کو دھمکیاں دینے والے وزیراعظم عمران خان کو پاک فوج کے ریٹائرڈ افسر نے حیران کن مشورہ دے دیا

لاہور (ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے ایک انٹرویو میں جو کہا کہ مجھے نواز شریف کو لانے کے لیے اگر لندن بھی جانا پڑا تو جاﺅں گا اس بیان کو لے کر ان پر بہت تنقید کی جا رہی ہے۔اسی حوالے سے سینئر تجزیہ کار جنرل( ر) امجد شعیب نے نجی ٹی وی چینل

کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔وہ بڑھکیں مارتے رہتے ہیں اور سوچتے بھی نہیں ہیں کہ کیا کہہ رہا ہوں اور ان ساری باتوں پر وہ بعد میں عمل نہیں کر پاتے۔انہوں نے عمران خان کو مشورہ دیتے ہوئے کہا عمران خان کو ایک کام کرنا چاہیے کہ وہ اپنی ساری تقاریر نکلوائیں اورباری باری سنیں کہ وہ کہتے کیا تھےاور کرتے کیا ہیں۔بھائی آپ نواز شریف کو واپس لانے کی بات کر رہے ہیں یہ بھلا ہو سکتا ہے کہ میں جاﺅں گا بورس جانسن سے بات کروں گااور نواز شریف کو واپس لے آﺅں گا۔بورس جانسن کوئی بنانا ری پبلک کا پرائم منسٹر نہیں ہے اور نہ ہی وہاں آپ کی نیب کا آرڈر چلتا ہے۔سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی بات اور ہے کہ وہاں بادشاہت ہے آپ نے شہزادہ سے درخواست کی اور اس نے شاہی فرمان جاری کرتے ہوئے قیدیوں کو چھوڑ دیا۔برطانیہ میں ایسا نہیں ہوتا وہاں بادشاہت نہیں ہے۔وہاں ادارے آزاد ہیں،اپنی مرضی کے مالک ہیں ، اور وہی اپنا کام کرتے ہیں۔یہ بھول جائیں آپ کہ آپ نواز شریف کو واپس لائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ میں آپ کو یاد کرا دوں عمران خان آپ نے سفارت کاری کا ذمہ لیا تھا آزاد کشمیر کا ،تو اب کیوں نہیں ملکوں ملکوں جاتے دھکے کھاتے اور لوگوں کو بتاتے کہ کشمیر میں انڈیا کیا کر رہا ہے۔تو یہ عمران خان میں دور اندیشی والی تو کوئی بات ہی نہیں ہے بلکہ کوتاہ نظری ہے کہ جو منہ میں آئے کہہ دیااور بعد میں یوٹرن لے لیا یا پھر شرمسار ہو کر بیٹھ گئے۔میاں صاحب والے قصے پر انہیں اپنا منہ بند رکھنا چاہیے یہ نہیں لا سکیں گے ان کے بس کی بات نہیں ہے۔یہ اپنے کام سے کام رکھیں اور اِدھر ُادھر کی باتوں پر توجہ دینے کی بجائے عام آدمی کے حالات بہتر کرنے کی طرف توجہ دیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.