میاں نواز شریف بالکل درست کہتے ہیں ،مگر انکی باتوں کو ایک سازش کے تحت قابل مذمت بنا کر کون پیش کررہا ہے ؟ تنقید کی بھرمار میں نامور صحافی کے حیران کن انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) ہماری سیاسی جماعتیں مدت سے اقتدار کی سیاست (Power Politics) کرتی آئی ہیں۔ کوئی بڑا آدرش، بیانیہ، نصب العین ان کے پیشِ نظر نہیں رہا۔ نظریاتی سیاست تو اکیسویں صدی میں دم توڑ چکی۔ طرزِ کہن کی خوگر جماعتوں کے لیے، یہ آسان نہیں کہ وہ پاور پالیٹکس سے یکدم

بیانیے کی سیاست میں داخل ہو جائیں۔نامور کالم نگار خورشید ندیم اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ مجھے خیال ہوتا ہے کہ نوازشریف صاحب نے ماضی میں جس طرح پارٹی کو نظر انداز کیا اور اس کی تنظیم اور تربیت سے صرفِ نظر کیا، یہ انتشارِ فکر اسی کا شاخسانہ ہے۔نوازشریف صاحب نے ایک فیصلہ کیا۔ انہوں نے اقتدار کے بجائے بیانیے کی سیاست کا علم اٹھایا۔ اس تبدیلی سے پہلے لازم تھا کہ پارٹی کے لوگوں کو اِس کے لیے تیار کیا جا تا۔ انہیں بتایا جاتا کہ ان کی سیاست کا ہدف اب کون ہے اور یہ ایک انتخابی معرکہ نہیں، اس سے کہیں سخت ہے۔ اس میں جاں کا زیاں بھی ہو سکتا ہے۔ یہ کام نہیں کیا گیا۔ پھر شہبازشریف صاحب کی تمام ترسیاست یہی پاور پالیٹکس تھی۔ ان کی حکمتِ عملی کی ناکامی کے بعد، نون لیگ کے پاس ایک ہی راستہ باقی تھا: مزاحمت۔ میرے نزدیک تو پہلے ہی دن سے یہی راستہ تھا لیکن شہباز شریف صاحب نے اپنی مہارت کو آزمانا چاہا۔ یہ ممکن تھاکہ اس دوران میں نون لیگ کومزاحمت کیلئے بھی تیار کیا جاتا کہ نوازشریف اپنا بیانیہ پیش کر چکے تھے۔ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ مریم اورنگزیب کی درخواست کا سن کر اندازہ ہورہا ہے کہ نون لیگ کو اپنے ہدف کے بارے میں یکسو ہونے کی کتنی ضرورت ہے۔نون لیگ کا چیلنج صرف یہ نہیں کہ اس جماعت کے رہنما اور کارکن اپنی منزل اور اس کے راستے کی مشکلات سے باخبر ہوں۔ اس کا چیلنج یہ بھی ہے کہ وہ عوامی سطح پران غلط فہمیوں کا ازالہ کرے جو نوازشریف کے بیانیے کے بارے میں پھیلائی جارہی ہیں۔

مثال کے طور پہ یہ پروپیگنڈا کہ یہ بیانیہ اداروں کو ہدف بنانا چاہتا ہے۔عوام میں آگاہی کی ایک مہم چلانا چاہیے کہ یہ ایک مثبت بیانیہ ہے، منفی نہیں۔ یہ آئین کی بالا دستی اور وفاقی اکائیوں کو جمع کرنے کا بیانیہ ہے۔ یہ اداروں کے احترام کا بیانیہ ہے۔ اداروں کا احترام اُسی وقت ممکن ہوتا ہے جب آئین کی طے کردہ حدود کا احترام ہوتا ہے۔ افراد جب انحراف کرتے ہیں تو ادارے کی سلامتی کے لیے لازم ہو جاتا ہے کہ ان کے خلاف اقدام کیا جائے۔ اس سے اداروں کا احترام قائم ہوتا ہے، ختم نہیں۔ہر ادارے میں احتساب کا ایک نظام ہوتا ہے۔ فوج اپنے منحرفین کا کورٹ مارشل کرتی اور انہیں تختہ دار کی سزا بھی سناتی ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ افراد کے لیے پورے ادارے کی ساکھ کو برباد نہیں کیا جا سکتا۔اسی طرح سیاسی جماعت ہے۔ اگر کوئی سیاسی رہنما کسی جرم میں ملوث ہے تو سیاسی جماعت کے وقار کیلئے لازم ہے کہ وہ اس سے اپنی صفوں کو پاک کر دے۔سیاسی جماعتیں اگر ایسا نہیں کرتیں توقوم کی نظر میں اپنی ساکھ کھو بیٹھتی ہیں۔ کوئی سیاسی یا غیرسیاسی ادارہ جب خود احتسابی نہیں کرتا یا ریاست کا نظامِ عدل اس بارے میں غیر حساس ہو جاتا ہے تو پھر نظام باقی نہیں رہ سکتا۔ یہی نوازشریف کا بیانیہ ہے اور لازم ہے کہ اس کا ابلاغِ عام ہو تاکہ اس پروپیگنڈے کا سدِباب ہوتا جواس بیانیہ کا ہدف کسی ادارے کو قراردیتا ہے۔یہ کام ظاہر ہے نون لیگ کو کرناہے۔ اس کی میڈیا ٹیم کو اس کیلئے حکمتِ عملی بنانی ہے۔

 

Sharing is caring!

Comments are closed.