تہلکہ خیز انکشاف : سوڈان نے اسرائیل کو تسلیم بھی کیا اور ایسا کرنے کے لیے بھاری رقم بھی دی ؟ ایسا دعویٰ کہ امت مسلمہ دنگ رہ گئی

لندن (ویب ڈیسک) سوڈان اور اسرائيل نے تعلقات قائم کرنے کا اعلان کر ديا ہے۔ يوں سوڈان اسرائيل کو تسليم اور اس کے ساتھ باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کرنے والا پانچواں عرب ملک بن گيا ہے۔ عالمی سطح پر اکثريتی ممالک نے اس پيش رفت اور دونوں ممالک کے مابين کئی دہائيوں سے

چلی آ رہی کشیدگی کے خاتمے کا خير مقدم کيا تاہم فلسطینیوں سمیت چند رياستوں نے اس پر ناراضگی ظاہر کی۔حاليہ مہینوں ميں پہلے متحدہ عرب امارات اور پھر بحرين نے اسرائيلی رياست کو تسليم کيا۔ امريکا کی ثالثی ميں جمعہ چوبيس اکتوبر کو سوڈان نے بھی اسرائيل کے ساتھ تعلقات کے قيام کا اعلان کر ديا۔ یہ فیصلہ اس لیے بھی زیادہ اہمیت اختیار ک رجاتا ہے کیوں کہ سوڈان سن 1948 ميں اسرائيلی رياست کے قيام کے وقت سے ایک طرح سے اس کے ساتھ حالت لڑائی ميں تھا۔باہمی تعلقات کے قيام کے اعلان کے باوجود سوڈان کی فوجی اور سويلين قيادت اب بھی اس بات پر منقسم ہے کہ اسرائیل کے ساتھ کتنی تيزی سے اور کتنے زيادہ باہمی تعلقات استوار کيے جائيں۔ يہاں يہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مذاکراتی عمل کے دوران خرطوم حکومت کا اس بات پر اصرار تھا کہ اسرائيل کے ساتھ تعلقات کے معاملے کو اس ملک کے بدامنی کی معاونت کرنے والے ملکوں کی فہرست‘ سے اخراج سے قطعی نہ جوڑا جائے۔سوڈان کو سن 1993 ميں بدامنی کی معاونت کرنے والے ملکوں کی فہرست‘ ميں شامل کيا گيا تھا۔ اس فہرست سے اخراج کے ليے امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شرط رکھی تھی کہ خرطوم حکومت ہرجانے کے طور پر 335 ملين ڈالر جمع کرائے۔ عالمی مالياتی ادارے کی جانب سے جمعے کو اعلان کيا گيا ہے کہ واشنگٹن حکومت کی جانب سے سوڈان کو بدامنی کی معاونت کرنے والے ممالک کی فہرست‘ سے خارج کرنے سے اس ملک کے ليے قرض کے حصول کی

Sharing is caring!

Comments are closed.