اب پاکستان کا اللہ ہی حافظ ہے ، عمران خان پٹڑی سے اتر چکے ہیں اور عنقریب ۔۔۔۔۔ سلیم صافی کی تہلکہ خیز پیشگوئی

لاہور (ویب ڈیسک) حکومت اگر واقعی حکومت ہو تو اُس کی پہلی ترجیح ریاستی اداروں کو مضبوط بنانا، اُن کی قدر و منزلت میں اضافہ کروانا، عوام اور اُن کے مابین اعتماد کی فضا بحال کرنا اور اُن کے کردار کو آئین میں مقررکردہ رول کے اندر لانا ہوا کرتا ہے۔

نامور کالم نگار سلیم صافی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اِسی طرح جینوئن حکومتیں ریاستی اداروں کو اپنے لئے ڈھال نہیں بناتیں بلکہ خود اُن کے لئے ڈھال بنتی ہیں لیکن بدقسمتی سے اِس وقت پاکستان میں ایک ایسی حکومت برسراقتدار ہے جو ڈھال بننے کی بجائے ریاستی اداروں کو اپنے لئے ڈھال بنارہی ہے۔ وہ اداروں اور عوام کے نمائندوں (اپوزیشن) کے مابین رابطہ کار کا کردار ادا کرنے کی بجائے اُن کو لڑانے میں لگی ہوئی ہے۔ ریاست کے ادارے ملک بھر کے عوام کے ادارے ہوا کرتے ہیں۔وہ سب کے لئے قابلِ احترام ہوتے ہیں اور ہر شہری اُن پر یکساں دعویٰ کرتا ہے لیکن یہ تاریخ کی انوکھی حکومت آئی ہے جو اداروں کی آڑ لے کر باقی تمام پاکستانیوں کو اُن کا دشمن بنا رہی ہے۔اِن کے کیسز کی مجبوری تھی، کوئی اور خوف تھا یا پھر اداروں سے تصادم نہیں چاہتے تھے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) نے متنازعہ ترین انتخابات کے باوجود سسٹم کو چلانے کی کوشش کی جبکہ اداروں کی بھی یہ کوشش رہی کہ اُن کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لایا جائے لیکن عمران خان مفاہمت کی ہر کوشش کو سبوتاژ کرتے رہے۔پیپلز پارٹی تو انتخابات سے قبل بھی تابعدار تھی اور انتخابات کے بعد بھی صدارتی الیکشن وغیرہ میں تحریک انصاف کے ساتھ تعاون کیا جبکہ مسلم لیگ(ن) بھی شہباز شریف کے بیانیے کو اپنا کر شرافت کی سیاست کرنے لگی لیکن عمران خان نے پکڑ دھکڑ کو ترجیح دی۔ اِس سے اپوزیشن کو اشتعال دلانے کے ساتھ ساتھ معیشت کا بھی ستیاناس کیا اور فواد حسن فواد یا احد چیمہ

جیسے افسران کا انجام دیکھ کر بیوروکریسی نے بھی کام کرنا چھوڑ دیا۔ یوں معیشت تباہ ہونے لگی تو اداروں نے اُس کو مزید تباہی سے بچانے کی خاطر اور اِس سوچ کی خاطر کہ سونامی سرکار پوری توجہ گورننس پر دے، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) سے تعلقات بہتر بنانے کا فیصلہ کیا۔ یہ سب کچھ عمران خان کی بھلائی میں کیا جارہا تھا کیونکہ مقتدر ادارے اُن کی کامیابی کو اپنی کامیابی اور اُن کی ناکامی کو اپنی ناکامی سمجھ رہے تھے۔عمران خان نہیں چاہتے تھے کہ میاں شہباز شریف پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمین بنیں لیکن اُن کو دبائو پر چیئرمین بنا دیا گیا۔ اِسی طرح پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی گئی لیکن جب نیب کا کنٹرول، چیئرمین نیب سے متعلقہ مواد ہاتھ میں لینے کے بعد عمران خان کے پاس آگیا تو اُس کے ذریعے اُنہوں نے بےدریغ اپوزیشن رہنمائوں کی پکڑ دھکڑ شروع کرا دی۔ اب نیب والے بھی حصہ دار بن گئے لیکن اپوزیشن کا یہ خیال رہا کہ نیب کو حسبِ سابق صرف ادارے ہی اُن کے خلاف استعمال کررہے ہیں۔ دوسری طرف عمران خان اپنے وزرا اور ترجمانوں کو بدتمیزی کے لئے ابھارتے رہے تاکہ اُن کی حکومت کی ناکامی کی طرف دھیان نہ جائے۔اُن کے انتقام کا جذبہ تو ٹھنڈا ہوتا رہا لیکن اِس عمل سے معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔ جی ڈی پی گروتھ کا زوال، مہنگائی اور بےروزگاری میں ہوشربا اضافے اور بدامنی کی وجہ سے عوام کا جینا دوبھر ہو گیا۔ دوسری طرف مودی نے کشمیر ہڑپ کر لیا

 

Sharing is caring!

Comments are closed.