”جیو نیوز ”کے سینئر رپورٹر علی عمران سید کی گمشدگی حکومت نے بھی خاموشی توڑ دی ، اپنا موقف پیش کردیا

اسلام آباد (این این آئی)وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہا ہے کہ امید کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ علی عمران سید جلد اپنی فیملی اور دوستوں سے ملیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک بیان میں وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے نجی ٹی وی ”جیو نیوز ” کے سینئر رپورٹر علی عمران سید کی گمشدگی پر کہا کہ امید کرتا ہوں علی عمران سید جلد اپنی فیملی اور دوستوں سے ملیں۔دریں اثنا وفاقی وزیرِ انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا ہے کہ جمہوریت میں کسی کو لاپتہ نہیں ہونا چاہیئے۔وہ اپنے بیان میں

صحافی علی عمران سید کے لاپتہ ہونے پر اپنے ردِ عمل کا اظہار کررہی تھیں، انہوں نے کہا کہ گرفتار کر کے مقدمہ بنانے والوں سے نمٹنے کے لیے انسدادِ دہشت گردی سمیت مضبوط قوانین موجود ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز نجی ٹی وی’جیو نیوز’ کے رپورٹر علی عمران سید لاپتہ ہو گئے، اہلِ خانہ کے مطابق علی عمران گھر سے قریبی بیکری تک گئے تھے لیکن واپس نہیں آئے۔علاوہ ازیں ایمنسٹی انٹرنیشنل جنوبی ایشیاء اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ سمیت ملک بھر کی صحافتی تنظیموں نے جیو نیوز کے رپورٹر علی عمران سید کے لاپتہ ہونے پر شدید تشویش اظہار کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق جیو نیوز کے سینئر رپورٹر علی عمران سید گزشتہ روز شام 7 سے 8 بجے کے درمیان گھر سے تھوڑی دیر کیلئے باہر گئے اور لاپتہ ہو گئے۔علی عمران سید کے لاپتہ ہونے کے معاملے کا گورنر عمران اسماعیل اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کر لی ۔علی عمران سید کے لاپتہ ہونے کے معاملے پر پاکستان کی صحافتی تنظیموں، سینئر صحافیوں اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جنوبی ایشیاء نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (پی ایف یو جے)، ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز نے علی عمران سید کے لاپتہ ہونے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ، وفاقی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ علی عمران سید کو بازیاب کرانے کے لیے فوری طور پر اقدامات کیے جائیں۔صحافتی تنظیموں نے کہا کہ صحافیوں کو تحفظ فراہم کیے بغیر میڈیا کی آزادی کا حصول ناممکن ہے۔ پی ایف یو جے نے کہا کہ اگر علی عمران سید کو فوری طور پر رہا نہ کروایا گیا تو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دیا جائے گا اور پیر سے ملک بھر کی صحافتی تنظیمیں احتجاج کریں گی۔راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس نے جیو کے رپورٹر علی عمران کے لاپتہ ہونے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے علی عمران کی فوری بازیابی کے لیے اقدامات کریں۔صدر آر آئی یو جے عامر سجاد اور جنرل سیکرٹری آصف علی بھٹی نے کہا کہ علی عمران کا لاپتہ ہونا قابل مذمت اقدام ہے، صحافیوں کے پیشہ ورانہ امور پر انہیں نشانہ بنانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے، علی عمران کی باحفاظت واپسی یقینی نہ بنائی گئی تو ملک بھر میں احتجاج کی کال دی جائیگی۔ایمنسٹی انٹرنیشنل جنوبی ایشیاء نے جیو نیوز کے رپورٹر علی عمران کے لاپتہ ہونے پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ علی عمران گزشتہ ورز کراچی سے لاپتہ ہیں، خدشہ ہے علی عمران کو رپورٹنگ پر جبری لاپتہ کر دیا گیا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مطالبہ کیا ہے کہ حکام علی عمران سید کے بارے میں فوری طور پر پتہ چلائیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.