میں بہت غریب تھا کرکٹ کھیلنے کے لیے پیسے نہیں ہوتے تھے، عبدالرزاق نے اپنے کرکٹ کے سفر کی شاندار داستان سنادی

عبد الرزاق اپنی اس دھیمی گیند بازی میں جب سوئنگ کی ڈیلیوری کرواتے تھے تو اس وقت بڑے سے بڑے بیٹسمن اس کو کھیلنے سے محروم ہو جاتے تھے اور خود بہ خود اپنی وکٹ گنوا کر واپس پویلین لوٹ جاتے تھے،

عبد الرزق شاید کرکٹ کی دنیا کے وہ واحد کھلاڑی تھے جن کے چہرے پر ہمیشہ ہی ہلکی ہلکی مسکراہٹ رہتی تھی- اگر ہم بات کریں عبد الرزاق کے آباؤ اجداد کی تو ان کا تعلق

نارنگ مندی کے نزدیکی گاؤں ماڑی تھا اور ان کے والد کا نام الطاف حسسیں اور ان کی والدہ ماجدہ کا نام رشیدہ بانو تھا اور اب ان کے بزرگ اس دنیا میں نہیں رہے ہیں اگر ہم بات کریں ان کے والد کی تو

وہ اپنے آبائی گاؤں سے 1976 میں اپنے بچوں کی اچھی زندگی بنے کی خاطر شاہدرہ میں شفٹ ہو گئے- اور پھر اب الرزاق 2 دسمبر 1979 کو اسی شہر میں پیدا ہوئے

یہ لوگ 4 بھائی اور صرف ایک بہن ہیں- ان کے والد خراد مشین کے کارگر تھے اور وہ مریدکے کے قریب ریحان مل میں کام کرتے تھے ایک دفعہ ان کا ہاتھ مشین میں آنے کی وجہ سے

کٹ بھی گیا تھا جس کی وجہ سے ان کو ریحان مل چھوڑنا پڑ گئی، اور اس کے بعد انھوں نے شاہدرہ میں ہی بلڈنگ مٹیریل کا کام شروع کر دیا، ان کے والد کی خواہش تھی کہ

عبد الرزاق پڑھ لکھ کر ایک بڑا آدمی بنے مگر ان کو پڑھنے میں اتنی دلچسپتی نہیں تھی،عبد الرزق بچپن سے ہی کھیلوں کا بہت شوقین تھے، وہ گلی ڈنڈا میں بہت ماہر سمجھا جاتا تھا اور

اس کے علاوہ وہ کنچے بھی شوق سے کھلتا تھا- اور یہ چیزیں اس کے والد کو سخت نا پسند تھیں اور اسی وجہ سے کئی دفعہ والد صاحب سے درگت بھی بنی 1990 کے بعد

رزاق کا شمار اپنے علاقے کے نامور آل راؤنڈر میں سے ہونے لگا یہ اس وقت کی بات ہے جب رزاق ٹیپ بال سے کھلا کرتا تھے، جب سارا علاقہ اس کو جاننے لگا تو ہر کوئی

ان کو میچ کھیلنے کے لیے بلاتا تھا مگر یہ سارا سلسلہ دیکھ کر اس کے والد نے ان پر مزید پابندی لگا دی کیونکہ وہ صرف یہی چاہتے تھے کہ رزاق لکھائی پڑھائی کر کے

بڑا افسر بنے اور بس، مگر ان سب باتوں کا رزاق پر کوئی اثر نہ ہوتا، رزاق مزید کہتے ہیں کہ جب مجھے انڈر 16 میں کرکٹ کھیلنے کا موقع ملا تو میں نے والدین کی شدید

مخالفت کے باوجود تعلیم کو چھوڑ کر اپنا شوق اور اپنی کرکٹ کو جاری رکھا، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ روزانہ اپنے دوستو کے ساتھ مل کر قرآن شریف پڑھنے مسجد جاتے اور

اس کے علاوہ مسجد کی صفائی بھی باقائدگی سے کرتے تھے، عبد الرزق بہت زیادہ ٹیلنٹنڈ تھے کہ کھیل کا جو بھی سیزن ہوتا وہ وہی کھیل کھیلنا شروع کر دیتا تھے،

اس بارے میں عبد رزاق نے انٹرویو کے دوران کہا کہ جب ہاکی کا سیزن شروع ہوتا تھا تو وہ اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر لکڑی چوری کر کے ان کی ہاکی بنا کر کھیلا کرتے تھے،

رزاق کہتے ہیں کہ وہ بچپن میں رمضان مبارک کا بہت زیادہ انتظار کرتے تھے اور وہ ان دنوں خوب عبادت کرتے تھے اور مسجد میں بھی بہت زیادہ جایا کرتے تھے اور پھر

ان دنوں میں کرکٹ بھی بہت زیادہ کھیلا کرتے تھے اس کے علاوہ غریب ہونے کی وجہ سے سب دوست مل کر پیسے اکھٹے کر کے بیٹ اور گیند خریدا کرتے تھے اس کے علاوہ

عید پر بھی جو پیسے اکھٹے ہوتے تھے ان سے بھی بیٹ اور گیند خرید لیا کرتے تھے، انھوں نے مزید کہا کہ جب وہ اپنے گھر سے دور کسی علاقے میں میچز کھلنے جایا کرتے تھے تو

ان کے پاس پیسے نہیں ہوا کرتے تھے اور ان دنوں ان کے گھر کے حالت بھی اتنے اچھے نہیں تھے تو پھر وہ اس کام کے لیے بسوں کے پیچھے لٹک کر اپنی منزل پر پہنچا کرتے تھے-

عبد الرزق نے کہا کہ جب پاکستان نے 1992 میں ورلڈ کپ جیتا تو جہاں وہ رہا کرتے تھے وہاں کے لڑکوں نے ٹیپ بال چھوڑ کر ہارڈ بال سے کرکٹ کھیلنا شروع کر دی مگر

ان دنوں رزاق کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ وہ کرکٹ کا سامان خرید سکتے لہذا انھوں نے اپنے ایک دوست کے ساتھ مل کر ڈبل وکٹ کا چیلنج دیا اور پھر شرطیں لگا کر

پیسے جیتے اور پھر ان پیسوں سے ہارڈ بال کا سامان خریدا، 1993 میں پیپسی انڈر 16 کرکٹ کیمپ کے لیے ٹرائلز ہوئے تو عبد الرزاق بھی ایل سی سی اے گراؤنڈ میں پہنچ گیے اور پھر

جب وہاں پر اس کی کارکرگی کو دیکھا گیا تو سب نے ان کی بھت تعریف کی اور ان کو سلیکٹ کر لیا گیا، سابق ٹیسٹ کرکٹر علی رضا اور اسد خان نے ان کی بہت زیادہ تعریف کی اور پھر

انھوں نے عبد الرزق کو پی اینڈ ٹی کرکٹ جوائن کرنے کا مشورہ دیا عبد الرزاق نے ان کے مشورہ پر عمل کیا اور سیدھا اس کلب میں پریکٹس کے لیے جا پہنچا اور وہا اس کی ملاقات

اظہر زیدی سے ہوئی اور جب انھوں نے اس کو کھیلتے ہوئے دیکھا تو انھوں نے کہا کہ اگر تم نے 3 سال ایسے ہی محنت کی تو تم پاکستان کرکٹ ٹیم کا حصہ بن جاؤ گے،

جب عبد الرزق نے کلب کرکٹ شروع کی تو اس کے گھر والوں نے اس کی بہت زیادہ مخالفت شروع کر دی مگر عبد الرزق نے کسی کی بھی نہ سنی اور اپنی کلب کرکٹ کو جاری رکھا اور

انھوں نے نے ایسے بھی حالات دیکھے جب ان کے پاس کرائے کے لیے پیسے نہیں ہوتے تھے اور ان کو پیدل کلب جانا پڑتا تھا اور جب اس بات کا اظہر زیدی کو پتہ چلا تو انھوں نے

ان کی یہ مشکل حل کر دی اور پھر اس کے بعد انہوں نے اپنی تمام تر توجہ کرکٹ پر مرکوز کر دی، ان دنوں میں عبد الرزق صبح اور سپہر کو پریکٹس کے لیے گراؤنڈ میں جایا کرتے تھے،

عبد الرزق کے اس دور میں اظہر زیدی نے ان کی بہت مدد کی اور ان کو سپر سٹار بنانے میں اظہر زیدی کا بہت کردار ہے، 1996 میں انڈر 19 ٹیم نے ویسٹ انڈیز کے ٹور پر جانا تھا اور

اس کے انتخاب کے لیے لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ٹرائلز ہوئے اور وہاں پر عبد الرزق نے بھی اظہر زیادی کے کہنے پر شرکت کر لی اور پھر جب وہاں پر اس کی بولنگ اور بیٹنگ کو دیکھا گیا تو

انھوں نے اس کو فورا سلیکٹ کر لیا اور پھر اس کے بعد عبد الرزاق نے پہلی بار ویسٹ انڈیز کا دورہ کیا، کنگسٹن میں کھیلے جانے والے پہلے میچ میں عبد الرزاق نے 8 وکٹس لے کر یہ ثابت کر دیا کہ

ان کی سلیکشن ایک درست فیصلہ تھا، اس کے بعد اس نے دوسرے میچ میں 9 کھلاڑیوں کو آوٹ کیا اور پھر اس کے بعد وہ اس ٹور کا بہترین کھلاڑی بھی قرار پایے،

کہتے ہیں کہ یکم نومبر1996 عبد الرزاق کی زندگی کا ٹرننگ پائنٹ تھا جب زمباوے کے خلاف اس کو پاکستان کی ٹیم میں نمایندگی کرنے کا موقع ملا

اور ان کا خوش قسمت ترین دن تھا اور اس دن عبد الرزاق نے شکرانے کے نوافل بھی ادا کیے تھے اور ان کے کوچ اظہر زیدی نے مٹھائی بھی تقسیم کی تھی

Sharing is caring!

Comments are closed.