اصل کہانی تو اب سامنے آئی : آرمی چیف کے بلاول بھٹو کو ایک فون نے کیسے چھانگا مانگا لیگ کا بنا بنایا کھیل بگاڑ دیا ؟ ایک ساتھ چھٹیوں پر جانے کا مشورہ کہاں سے دیا گیا تھا ؟ تہلکہ خیز حقائق منظر عام پر

لاہور (ویب ڈیسک) مسلم لیگ کا نیا جنم 1985کے بعد ہوا ہے، 1985میں پیپلز پارٹی کے خوف سے وقت کے آمر نے غیرجماعتی بنیادوں پر الیکشن کروائے۔ پیر پگارو کے کہنے پر سانگھڑ سے اُن کے ایک مرید محمد خان جونیجو کو وزیراعظم بنایا گیا پھر آزاد منتخب ہونے والے اراکین میں سے

مسلم لیگ تراشی گئی،نامور کالم نگار مظہر برلاس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اُن لوگوں نے سائیکل کا نشان چنا، یہی نشان آئی جے آئی کے کام آیا، اُس وقت کہیں سے پیسے بھی آئے تھے۔ جونیجو کے بعد مسلم لیگ ن اور جے یعنی جونیجو گروپ بعد میں چٹھہ گروپ بن گئی۔ اُسی مسلم لیگ میں سے میاں منظور احمد وٹو نے مسلم لیگ جناح بنائی۔ 12اکتوبر 1999کے بعد پرویز مشرف اقتدار میں آ گئے تو پھر مسلم لیگ ن میں سے ق نکل آئی۔ 2002کے بعد اقتدار اُس کے حصے میں آیا، انتخابی نشان سائیکل ہی رہا جبکہ ن لیگ نے شیر کا نشان لے لیا، لوگوں نے زیادہ ق کہنا شروع کیا تو اُنہوں نے جماعت کا نام پاکستان مسلم لیگ رکھ لیا۔ اسی دوران مسلم لیگ ضیاء بھی نمودار ہوئی، بعد میں مشرف نے آل پاکستان مسلم لیگ بنا ڈالی۔ ساتھ ساتھ مسلم لیگ فنکشنل کا جادو بھی چلتا رہا، عوامی شیخ رشید نے اپنی عوامی مسلم لیگ کو بھی زندہ رکھا ہوا ہے۔ ایک بات تو طے ہے کہ مسلم لیگ کا کوئی نہ کوئی گروپ اقتدار میں ضرور رہا ہے۔ موجودہ دور میں سب سے بڑی مسلم لیگ وہ مسلم لیگ ہے جس کے ساتھ ن آتا ہے، اب اِس ’ن‘ میں سے ’ش‘ کو تلاش کیا جا رہا ہے۔مسلم لیگ ن دولت مندوں کی پارٹی ہے، اِس پارٹی کا سارا دارومدار خرید و فروخت پر رہتا ہے، شاید اِس کی بڑی وجہ جماعت میں تاجروں اور سرمایہ داروں کی اکثریت ہو کیونکہ یہ جماعت زندگی کے دوسرے شعبوں سے افراد کو خرید کر ہمنوا بنانے کی قائل ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.