میری بیٹی کی لا-ش کا پوسٹ مارٹم نہ کرو بس اسکو ۔۔۔۔ لاہور میں ڈاکوؤں اور ڈولفن فورس کے مقابلے میں جان بحق ہونے والی پنجاب یونیورسٹی کی طالبہ کی والدہ کا مطالبہ ۔۔۔ جان کر آپ کی آنکھیں نم ہو جائیں گی

لاہور (ویب ڈیسک)گزشتہ روز لاہورمیں کی سڑک پر جو واقعہ پیش آیا اس پر ہر آنکھ اشکبار ہے۔ڈولفن فورس اور لٹیروں مقابلے میں ایک لڑکی کی موت ہو گئی تھی ،م قتولہ کی والدہ کا کہنا ہےکہ وہ کسی قسم کی کارروائی نہیں کرنا چاہتے اس لیے اس کی

بیٹی کی میت کا طبی معائنہ نہ کیا جائے اور میت صحیح سلامت واپس دے دی جائے۔اس واقعے کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے مگر یہ واقعہ ڈولفن فورس کی قابلیت اور اہلیت پر بھی سوال اٹھا دیتا ہے۔یہ ڈولفن فورس کی نااہلی کا پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی لاہور میں شاہدرہ کے علاقے میں ایک راہگیر ان کی اندھی گولی کا نشانہ بن چکا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انہیں ہجوم میں جرائم پیشہ افراد پر قابو پانے کی تربیت نہیں دی جاتی ۔اگر پنجاب پولیس ایسی اسپیشل فورسز کو ٹریننگ دینے کے قابل نہیں ہے تو ان کی ٹریننگ بھی آرمی سے کرا لی جائے کیونکہ عوام کا یہی مطالبہ ہے کہ کم از کم بے گناہ شہریوں کی جانیں تو بچ جائیں۔یوں تو عام بے گناہ شہری لٹیروں سے کم اور محافظوں کی وجہ سے زیادہ مررہے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.