سندھ کے ایک ہندو کو کینسر ہوا ، اس کی بیوی بولی میں آپ کو ایک چیز پلائوں گی وہ پیتے رہیں ، نوجوان کا کینسر ٹھیک ہوا تو اس نے بیوی سے پوچھا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) یہ واقعہ ہمارے ملک کے صوبہ سندھ کا ہے ایک چالیس سالہ نوجوان کا تعلق ہندو گھرانے سے تھا ، اسکو کینسر کا مرض لاحق ہوا ڈاکٹروں نے لاعلاج کہہ کر زندگی خوشی سے گزارنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ اب آپ زیادہ سے زیادہ ایک ماہ کے مہمان ہو ۔ وہ ہارے ہوے جواری کی طرح اپنے کمرے میں داخل ہوا اور بیڈ پر لیٹ گیا کہ اب میں کچھ ہی لمحوں کا مہمان انسان ہوں ۔ بیوی اس کے ساتھ پیار محبت کی باتیں کرنے لگی لیکن میاں کی عدم دلچسپی بھانپ گی اسرار کرنے پہ شوہر نے بتایا کہ اسکو بلڈ کینسر ہے

جو آخری سٹیج پہ ہے ۔ بیوی نے یہ سنا تو مسکر کر بولی ” آپ ایسے ہی پریشان ہورہے ہے بلڈ کینسر بھی کوئی بیماری ہوتی ہے بھلا؟ میں آپ کو ایک کو ایک میں آپ کو ایک ایسی چیز پلاسکتی ہوں جس کے پینے سے آپ مکمل طور پہ صحت یاب ہوسکتے ہے لیکن میرے ساتھ ایک وعدہ کرنا ہوگا آپ جب بھی صحت یاب ہوں گے تو جو میں کہوں گی وہ آپ کو کرنا پڑے گا چاہے آپکی رضا ہو یا نہ ہو بولیں آپ تیار ہے ؟شوہر حیران ہوا کہ جس بیماری کا علاج دنیا کے کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں اسکا علاج

میری بیوی کے پاس کہاں سے آگیا اس کے ہاتھ کونسا آلہ دین کا چراغ لگ گیا۔ شوہر نے نہ چاہتے ہوے وعدہ کیا۔ بیوی نے کہا ٹھیک ہے آپ یہی ٹھہریں میں ابھی آئی ۔ کچھ لمحے بعد اسکی بیوی آیی تو اسکے ساتھ ایک جگ تھا اس نے کرسی پہ بیٹھ کر شوہر کو کہا کہ آپ کو جب بھی پیاس لگے آپ نے یہی پانی پینا ہے دوسرا کوئی بھی پانی نہیں پینا ” وہ نوجوان جب بھی پیاس محسوس کرتا تو اسی جگ سے پانی پیتا اور بیوی روز اس جگ میں پانی ڈال کر بھرا رکھتی ۔ بیوی کو نجانے کیا اعتماد تھا کہ اسکو شوہر کے آخری سٹیج کے کینسر کی زرا بھی فکر نہ تھی بلکہ وہ کینسر کو کوی مرض ہی نہیں سمجھ رہی تھی اسکے شوہر کو رہ رہ کرخیال آرہا تھا کہ ایک مہینہ بعد اسکی موت ہوجانی ہے اور اب زندہ رہنے کا کوئی چانس نہیں ۔ کچھ دن گزرنے کے بعد اس نوجوان نے خود میں واضح تبدیلیاں محسوس کی ۔ ایک ماہ گزر گیا تو وہ حیران ہوا کہ بقول ڈاکٹر وہ تو ایک ماہ کا مہمان تھا وہ خود کو صحت مند محسوس کرنے لگا لیبارٹری جاکر ٹیسٹ کرایا تو ایک حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ آپکا تو بلڈ کینسر ختم ہو چکا ہے اس انکشاف

Sharing is caring!

Comments are closed.