مسلم لیگ (ن)نے بھی آرمی چیف سے درخواست کردی

مسلم لیگ (ن)نے بھی آرمی چیف سے درخواست کردی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، آن لائن)ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہاہے کہ آرمی چیف سے درخواست ہے مریم نوازکے کمرے پر حملے کی انکوائری کریں ،کس طرح صبح ساڑھے6 بجے دروازہ توڑ کراندر داخل ہوئے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مریم نواز کے کمرے پر دھاوا بولا گیااس بات کو نظرانداز نہیں کیاجاسکتا ،مریم نواز شریف قوم کی بیٹیوں کی ترجمان ہے،قوم کی بیٹی محفوظ نہیں توپاکستان کی بیٹیاں کیسے محفوظ ہو سکتی ہیں؟،اس بات کاجواب دینا ہوگا یہ کس کے حکم پر ہوا اور ایسا کیوں کیاگیا۔دریں اثنا مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما شاہد خاقان

عباسی  نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیپٹن( ر) صفدر والا معاملہ چار دن سے چل رہا ہے کئی پیچیدگیاں سامنے آئی ہیں حقیقت یہ ہے کہ حکومت چادر چار دیواری کو پامال کررہی ہے۔ ہم نے بھی اکیس اکتوبر کو ایف آئی آر کی درخواست دی مگر ابھی تک درج نہیں ہوئی۔ آئی جی سندھ کو آئی ایس ایس کے دفتر لے جایا گیا تھا گھر کا محاصرہ کرنے والے رینجرز کے افسران تھے ۔دونوں وفاقی ادارے ہیں ۔آئی ایس ائی وزیر اعظم کے ماتحت ہے۔ وفاق صوبے پر حملہ آور ہوا مگر آئی جی اس معاملے کی ایف آئی آر درج کروانے سے قاصر ہے۔ائی جی اغوا ہوگیا تو عام آدمی کا کیا بنے گا ۔ انہوں نے کہا وزیراعظم نے اس سارے معاملے میں خاموشی اختیار کر رکھی ہے اس لیے بلاول نے آرمی چیف سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ ڈی جی آئی ایس آئی۔ائی جی سندھ اور ڈی جی رینجرز وفاق کے افسران ہیں۔ آرمی چیف آئی ایس آئی اور رینجرز افسران بارے تحقیقات کر سکتے ہیں ۔ آرمی ایکٹ اس حوالے سے واضح ہے دس دن میں تحقیقات مکمل ہونا ہیں ۔ہوٹل کا دروازہ توڑنے کی تحقیق ہونا ضروری ہے ۔وفاقی اداروں نے صوبے کے آئی جی کو اغوا کرکے ایف آئی آر درج کروائی ۔ وزیر اعظم نے ان دونوں اداروں کو ہدایات دی ہونگی کیونکہ وہ ان کے ماتحت ہیں ۔ عمران خان اس معاملے کے ذمہ دار ہیں ان کے حکم پر چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا گیا۔ کیا ان اداروں کو غیر قانونی حکم ماننا چاہیے تھا۔ معاملات بہت سنگین ہیں آئین توڑا گیا ساری بات وزیراعظم کے دفتر جاتی ہے۔ وزیراعظم کو اس کا جواب دینا پڑے گا ۔ وزیراعظم نے نہ صرف اپنا حلف توڑا اور افسران کو بھی ایسا کرنے کے لیے کہا ۔ ہمیں توقع تھی کہ ہماری عدالتیں از خود نوٹس لیں گی ۔ تاہم آئی جی کے اغوا اور آئین توڑنے پر عدالتوں نے نوٹس نہیں لیا ۔ عدالتوں کا خاموش رہنا لمحہ فکریہ ہے یہاں اب کوئی محفوظ نہیں ہے ۔ سینیٹ نے بھی اس معاملے کو ٹیک آپ نہیں کیا وہ کمیٹی بناے اور تحقیق کرے۔ خطرناک بات یہ ہے کہ منصوبہ بنا کر دو وفاقی ادارے استعمال کیے گئے۔جعلی ایف آئی آر میں مریم نواز کا نام بھی شامل ہے اسے بھی گرفتار کرتے ۔آرمی چیف سے رابطہ اس لیے کیا گیا کہ فوج کے ادارے ملوث تھے۔ حکومت نے رابط نہیں کیا کیونکہ سارا کام وزیر اعظم نے کروایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس معاملے پر احتجاج جاری رکھیں گے اصل مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے ۔ دباؤ حکومت پر ہے ن لیگ پر نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم گرفتاریوں سے نہیں گھبراتے۔ سختی سے کام نہی ں چلے گا جواب دینا پڑے گا ۔ گورنر سندھ کی قربانی سے کام نہیں چلے گا ۔امید ہے ہماری ایف آئی آر بھی درج ہو گی ۔ اس موقع پر احسن اقبال نے کہا عمران خان این آر او نہ دینے کی بات کرتا ہے ۔اس نے کلبھوشن یادیو کو سپر این آر او دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قانون کمیٹی نے اسے اپیل کا حق دینے کا بل پاس زبردستی پاس کروایا ہے ۔ انہوں نے کہا فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق قانون پہلے ہی موجود ہے تو پھر کلبھوشن کیلیے الگ قانون کیوں ہے ۔انہوں نے کشمیر کا سودا کیا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا عمران نیازی کا ایجنڈا صرف انتقام ہے وہ اقتدار کیلیے ہر سودا کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی معیشت کو مفلوج اور تباہ کردیا ہے۔ 

Sharing is caring!

Comments are closed.