لاتوں کے بھو ت باتوں سے نہیں مانتے ۔۔۔!!! نواز شریف کی اداروں پر بڑھتی تنقید اور اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک ، وزیر اعظم عمران خان نے بڑا قدم اٹھا لیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وزیر اعظم عمران خان نے پارٹی قیادت کا اہم اجلاس(کل)جمعہ کے روز طلب کرلیا، اجلاس میں اداروں کا دفاع کرنے کیلئے اہم ٹاسک بھی سونپا جائے گا۔نجی ٹی وی کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اداروں پربڑھتی تنقید اوراپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک کےمعاملے پر وزیر اعظم عمران خان نےپارٹی قیادت سےمشاورت

کافیصلہ کیا ہے،اپوزیشن کی تنقید کا بھرپور جواب دینے کے لیے ترجمانوں کو میدان میں اتارا جائے گا۔اس سلسلے میں وزیر اعظم عمران خان نے پارٹی قیادت اور حکومتی ترجمانوں کا اجلاس طلب کرلیا ہے، اجلاس ل شام 4 بجے وزیر اعظم آفس میں بلایا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی قیادت اور ترجمانوں کے اجلاس میں سیاسی حکمت عملی طے کی جائے گی، مریم نواز کے جلسوں کے اعلان کے حوالے سے بھی لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔وزیر اعظم عمران خان اجلاس میں حکومتی موقف پر بریفنگ دیں گے،اپوزیشن کی تنقید کے بعد اداروں کا دفاع کرنے کے لیے اہم ٹاسک سونپا جائے گا۔اجلاس میں ملکی سیاسی معاملات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جمہوری وزیراعظم ہوں کس کی جرات ہے کہ مجھ سے استعفیٰ مانگ،اگر مجھ سے ڈی جی آئی ایس آئی استعفیٰ مانگتا تومیں فارغ کردیتا، آرمی چیف نے مجھ سے پوچھ کر اپوزیشن سے ملاقات کی تھی۔وزیراعظم عمران خان نے سماء نیوز کو انٹرویودیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں اگر کسی نے غلطی کی تو کیا ہم آرمی کو گالیاں دیتے رہیں،اب پاکستانی فوج بدل گئی،موجودہ حکومت اور پاک فوج کے درمیان تاریخی تعلقات ہیں، نوازشریف کو ہمیشہ افواج پاکستا ن کے ساتھ مسئلہ رہا کیونکہ آئی ایس آئی ان کی چوری پکڑ لیتی ہے۔نوازشریف جس فوج کو گالیاں دے رہے ہیں اسی کے سہارے یہ سیاست میں آئے تھے، ان لوگو ں نے عدالتوں پر حملے کیے ، عدلیہ کو بلیک میل کیا۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ نوازشریف کہتے ہیں کہ مجھے آئی ایس آئی کے سربراہ نے کہا کہ استعفیٰ دو ، اگر مجھے کہتاتو میں اسی وقت فارغ کر دیتا۔ ادھر یہ کہتے ہیں کہ مشرف نے میرے کہنے کے بغیر حملہ کیا ، اگرمیر ے کہنے کے بغیر آرمی چیف ایسا کرتا تو اسی وقت فارغ کردیتا۔نوازشریف پاکستان کے ساتھ خطرناک کھیل کھیل رہا ہے، یہی کھیل الطاف حسین نے بھی کھیلا تھا۔بھارت ان کی مدد کررہاہے۔کیونکہ بھارت پاکستان میں فساد پھیلانا چاہتا ہے۔ اگر پاک فوج نہ ہوتی پاکستان کے تین ٹکڑے ہوچکے ہوتے۔وزیراعظم نے کہا کہ یہ لوگ مجھ پر دباﺅ ڈال کر این آراو لینا چاہتے ہیں ،میں اقتدار چھوڑ دوں گا لیکن ان کو این آرو نہیں دوں گا۔نوازشریف جھوٹ بول کر باہر گئے،ہمیں تو یہ بتایا گیا تھا کہ اگر علاج کے لیے باہر نہ بھیجا گیا تو یہ کسی بھی وقت مرسکتا ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *