گرل فرینڈ کا کارنامہ : مودی سرکار نے فرانس سے اصل قیمت سے 3 گنا زائد پر رافیل طیاروں کا سودا کیوں کیا ؟ امبانی خاندان کا اس میں کیا کردار ہے ؟ پول کھول دینے والے انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) بھارت نے کچھ سال قبل فرانس کے ساتھ رافیل طیاروں کی خریداری کا ایک معاہدہ کیا تھا جس کی رو سے نئی دہلی سرکار کو فرانسیسی حکومت سے 36 رافیل طیارے ملنا تھے۔ ان میں سے 5 جیٹ گزشتہ دنوں ہریانہ کے انبالہ فضائی ایئر بیس پر پہنچے۔

نامور خاتون صحافی جویریہ صدیق اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اب رافیل معاہدے میں بھی گھپلا اور بدعنوانی سامنے آئی ہے اور اس میں نریندر مودی کے قریبی دوست بزنس ٹائیکون انیل امبانی کا نام سامنے آیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ رافیل کی خریداری کے بدلے بھارتی حکومت کی جانب سے فرانس کو انیل امبانی کی رئیلائنس کمپنی کے ساتھ کام کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ امبانی کی کمپنی نے سابق فرانسیسی صدر اولاند کی گرل فرینڈ کی فلم کے لیے بھی مالی معاونت فراہم کی تھی۔ بھارتی اپوزیشن نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ کہ رافیل اصل قیمت سے زائد پر خریدے گئے ہیں اور انیل امبانی کی کمپنی کا دفاعی امور پر کوئی تجربہ نہیں ہے۔راہول گاندھی نے رافیل کی خریداری پر نریندر مودی کو ‘چور‘ قرار دیا ہے‘ ان کے بقول مودی نے رافیل معاہدے میں کمیشن کھایا اور طیارے تین گنا زائد قیمت پر خریدے؛ تاہم بھارتی سپریم کورٹ نے طیاروں کی خریداری میں بدعنوانی کو اپنے دائرہ اختیار سے باہر قرار دیتے ہوئے معاملے میں دخل اندازی سے گریز کیا۔ رافیل کے مقابلے میں جے ایف 17 تھنڈر پاک چین دوستی کا شاہکار ہے۔ اگر ہم جے ایف 17 تھنڈر بلاک تھری کی بات کریں تو یہ ملٹی کومبیٹ ایئر کرافٹ ہے جو پاکستان ایرو ناٹیکل کمپلیکس اور چنگدو ایئرکرافٹ کارپوریشن آف چین کے اشتراک سے بنایا گیا گیا ہے۔ گزشتہ برس ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ نے ڈوئل سیٹ جے ایف 17 تھنڈر تیار کئے اور ان کی پہلی کھیپ کی رونمائی ہوئی۔ 8 ڈوئل سیٹ طیارے پانچ ماہ کی ریکارڈ مدت میں بنائے گئے۔حال ہی میں ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان نے اس طیارے کی آپریشنل صلاحیتوں کا جائزہ لیا اور آپریشنل ٹریننگ مشن میں حصہ لیا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.