تحریک انصاف کے رہنما سیف اللہ نیازی 2018 کے الیکشن سے قبل ناراض کیوں ہو گئے تھے اور اگلےانتخابات میں پی ٹی آئی اور کپتان کو اسی حوالے سے کس مسئلے کا سامنا کرنا پڑے گا ؟ ایک حیران کن سیاسی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) سیف اللہ نیازی پاکستان تحریک انصاف کے چیف آرگنائزر ہیں ان پر وزیراعظم عمران خان بہت اعتماد کرتے ہیں دوہزار اٹھارہ کے انتخابات سے کچھ عرصہ قبل عمران خان اور سیف اللہ نیازی کے مابین کچھ اختلاف ہوئے۔ یہ اختلافات کچھ حقائق اور غلط فہمی کی بنیاد پر تھے۔

نامور کالم نگار محمد اکرم چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اب ان کی واپسی ہوئی ہے غلط فہمیاں دور ہو گئی ہیں اور حقائق کو نظرانداز کر دیا گیا ہے ان کی ذمہ داری ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے نظریاتی کارکنوں کی عزت میں اضافے کے لیے کام کریں اور ایسے افراد جو ناصرف نظریاتی ہیں بلکہ مختلف شعبوں اور اداروں میں کام کرنے کے قابل ہوں اور اپنے سیاسی تجربے اور مہارت سے ملک و قوم کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کر سکیں انہیں آگے لایا جائے۔ مختلف بورڈز اور اداروں میں جماعت کے مخلص اور قابل افراد کے انتخاب کی ذمہ داری سیف اللہ نیازی کو دے دی گئی۔ جیسے لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے چیئرمین اور صوبے کے دیگر چیئرمینوں کے بورڈز کا فیصلہ کرنا باقی ہے ایسے عہدوں پر جماعت کے مخلص اور قابل افراد کو لگایا جائے تاکہ سیاسی کارکنوں کی حوصلہ افزائی ہو اور نچلی سطح پر کام کرنے والوں میں جوش و جذبہ پیدا ہو سکے۔ پنجاب سے اعجاز منہاس ایسے افراد کے لیے سفارشات تیار کرتے ہیں پھر مختلف اداروں میں تعیناتیاں ہوتی ہیں لیکن جس انداز میں اداروں میں تقرریاں و تعیناتیاں ہو رہی ہیں ان میں نظریاتی کارکن تو کہیں نظر نہیں آتے جنہیں اہم عہدوں پر لگایا جا رہا ہے ان کا نظریات سے تو کوئی تعلق نہیں ہے۔ خانہ پری کے لیے کئی گمشدہ عہدوں پر نظریاتی کارکنوں کو لگایا گیا ہے یہ وہ عہدے ہیں جہاں وہ کچھ کر نہیں سکتے۔ سیاسی طاقت رکھنے والے تو کم ہی کسی عہدے پر لگتے ہیں نجانے کہیں اور سے آنے والے اہم عہدوں پر چلے جاتے ہیں۔ یوں ملی بھگت سے نظریاتی کارکنوں کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس وقت بھی نظریاتی کارکنوں کا ان کا حق نہ دیا گیا تو آئندہ انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کو شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ یہی لوگ حقیقی معنوں میں جماعت کے لیے کام کرتے ہیں۔ اگر اب ان نظریاتی افراد کو لگایا جائے گا تو انہیں کام کرنے کے لیے ایک ڈیڑھ سال مل سکتا ہے کیونکہ دو سال ہو چکے ہیں آخری سال تو وعدوں کا ہوتا ہے اس میں ترقیاتی کاموں کا وقت نہیں بچتا۔ جن لوگوں نے عمران خان کے ساتھ برسوں ایمان داری اور جوش و خروش کے ساتھ کام کیا ہے انہیں عزت اور مقام دینا اور ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا وزیراعظم عمران خان کی ذمہ داری ہے۔ اگر حقیقی کارکن نظر انداز ہو رہے ہیں سیف اللہ نیازی تو اس کا جواب دینا ہو گا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.