وہ وقت جب عمران خان اور عثمان بزدار روضہ رسولؐ کے اندر تھے اور باہر سے تالہ لگا دیا گیا ، پھروزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے احساسات کیا تھے ؟ وزیراعلیٰ پنجاب حیران کن بات بتا دی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ارشاد بھٹی اپنے ایک کالم میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار سے ملاقات کا احوال بتاتے ہیں ۔ سوال کیا ، کیا یہ سچ، دوسری شادی کرلی، کہا، نہیں بالکل نہیں ،ایک بیوی اور تین بیٹیاں ہیں بس۔ میں نے پوچھا، اتنے اچھے نصیب کہاںسے لائے، ہنس کرکہا،سب اللہ کا فضل ،

ساری عمر غریبوں میں رہا، غریبوں کی خدمت کی، غریبوں سے دعائیں لیں، والد تو اب حیات نہیں رہے،والدہ ہروقت مصلّے پر بیٹھی دعائیں کررہی ہوتی ہیں، سینکڑوں قیدیوں کے مسائل حل کرچکا، محکمہ پرزن میں بہت ساری اصلاحات لارہے ہیں، مجھے غریبوں کیلئے کام کرکے خوشی ہوتی ہے اور آپ کو یہ بھی بتاتاچلوں ،عمران خان کی ایک کمزوری وہ غریب لوگ، ان کامشن غریبوں کے حالات بدلنا، مسائل حل کرنا۔ میں نے کہا، مگر اس وقت آپ کی حکومت سے سب سے زیادہ تنگ غریب ہی، بولے، اچھا وقت آنے والاہے، پوچھا ،کامران خان کو انٹرویو کا کہہ کر عین وقت پر انٹرویو نہ دینا ،کیوں، کہنے لگے، بس مس مینجمنٹ ہوگئی، پوچھا، سہیل وڑائچ سے بھی وعدہ کرکے انٹرویو نہ دیا،بولے ،وہ ایک دن جیو کیساتھ کرنا چاہتے تھے، وہ بہت لمبا کام ہے،آگے چل کر کریں گے، ویسے اب میں اوپن ہونے والاہوں، اب میڈیا کو فیس کروں گا، کہا، مطلب آپ سیکھ چکے، بولے ،بالکل اب میں تیارہوں،کہا، والد کے نام پر دل کا اسپتال وہ بھی سرکاری پیسوں سے کیوں ،بولے ، نام بدل دیا ہے، اب اسپتال کا نام ڈیرہ غازی خان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی ہے، سوال کیا، 5سال نکال جائیں گے۔کہنے لگے، کبھی اس حوالے سے نہیں سوچا، جب تک نصیب میں ہے رہوں گا، ویسے بھی یہاں اگلے لمحے کا کیا پتا،شریفوں کو دیکھ لیں، جو اتنے اہم کہ 14ارب سیکورٹی پرلگے، 1960پولیس اہلکار حفاظت پر مامور، مطلب دو ضلعوں کی پولیس جتنی نفری، کتنے کیمپ آفسز،کتنی لمبی منصوبہ بندی، اب یہ سب کہاں ہیں۔پوچھا، دوسالوں میں کوئی یادگارلمحہ، بولے، روضہ رسول ؐ پر جانے کا شرف، میں عمران خان کے ساتھ عمرے پرگیا ،ہم نے مدینہ میں لینڈ کیا، بتایاگیا،آپ روضہ مبارک کے اندر جائینگے ،ہم اندرگئے ،باہر سے تالا لگا دیاگیا، ہم جب باہر آنے لگے تو تالا نہ کھل سکا، کافی دیر تالا کھولنے کی کوشش ہوتی رہی ، اتنی دیر میں ہم نے پھرسے دعائیں مانگنا،درود پڑھناشروع کردیا، اِدھر اذان ہوئی ،اُدھر تالا کھل گیا، یوں ہمیں مقررہ وقت سے زیادہ وقت اندر مل گیا،یہ لمحے میری زندگی کے انمول لمحے، یادگارلمحے۔میں نے کہا، جب آپ وزارت اعلیٰ سے ہٹیں گے ،کیا خواہش کہ لوگ آپ کو کیسے یاد رکھیں،بولے، ہم پنجاب میں بہت کچھ کرنے جار ہے، صرف 70ارب تو صحت کے شعبے میں لگارہے ہیں، صوبے بھر کے شہروں میں اسپتال بنیں گے، نیا صوبہ بنے گا، نئی سڑکیں ،پولیس ،پٹوار کلچر بدلے گا، میں پنجاب کا اصلی خادمِ اعلیٰ بننا چاہتاہوں،میری خواہش ہے کہ لوگ مجھے اصلی خادمِ اعلیٰ کے طور پر یاد رکھیں

Sharing is caring!

Comments are closed.