شہزادہ محمد بن سلمان کے خواب چکنا چور ۔۔۔ عالمی مارکیٹ میں روس نے سعودی عرب کو کمر توڑ جھٹکا دے دیا ، مارچ میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں حیران کن کمی کی وجہ بھی سامنے آگئی

لندن (ویب ڈیسک) رواں سال مارچ میں سعودی عرب اور روس میں تیل کی قیمت پر تنازع ہوا۔ سعودی عرب چاہتا تھا کہ روس تیل کی پیداوار میں کمی کرے تاکہ تیل کی گرتی قیمتوں کو سنبھالا جا سکے لیکن روس پیداوار کم کرنے پر راضی نہیں تھا۔ روس کے اس رویے سے تنگ آ کر

سعودی عرب نے بھی تیل کی قیمتوں میں کمی کر کے پیداوار بڑھانے اور فروخت کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ نامور صحافی رجنیش کمار بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔سعودی عرب نے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا جب کووڈ 19 کی وبا کی وجہ سے دنیا کے تمام کاروبار تعطل کا شکار تھے۔ دونوں ممالک قیمتوں میں کمی کا الزام ایک دوسرے پر عائد کر رہے تھے اور روسی سرکاری ٹیلی ویژن سعودی عرب پر اپنی کرنسی روبل میں کمی کا الزام لگا رہا تھا۔ دوسری جانب سعودی عرب نے بھی پلٹ کر وار کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ یکم اپریل کو سعودی عرب کی قومی تیل کمپنی آرامکو نے کہا کہ وہ روزانہ ایک کروڑ 30 لاکھ بیرل تیل تیار کرے گی۔ یہ روس کے ساتھ ہونے والے معاہدے سے 26 فیصد زیادہ پیداوار تھی۔ سعودی عرب کا خیال تھا کہ وہ روس کے ساتھ قیمتوں کی جنگ میں خود کو بادشاہ ثابت کرے گا۔ لیکن اس سے قبل نظر گذشتہ تین سالوں میں تیل کی دنیا میں ان دو اہم تبدیلیوں پر جن کا اثر بہت وسیع رہا۔ پہلا یہ کہ امریکہ میں تیل کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ اس پیداوار میں اس قدر اضافہ ہوا ہے کہ امریکہ ایک بڑے تیل درآمد کرنے والے ملک سے تیل برآمد کرنے والا ملک بن گیا ہے۔دوسرا تیل کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے روس اور سعودی عرب کے درمیان تعاون ضروری ہے۔امریکہ، روس اور سعودی عرب دنیا میں تیل پیدا کرنے والے تین بڑے ممالک ہیں۔

امریکہ پہلے نمبر پر ہے اور روس اور سعودی کے مابین مقابلہ جاری ہے اور دونوں ممالک کے مابین حالیہ دنوں میں تعاون بری طرح متاثر ہوا ہے۔ پٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم یعنی اوپیک پر سعودی عرب کا سب سے زیادہ غلبہ رہا ہے۔ کووڈ 19 کی وجہ سے تیل کی طلب میں شدید کمی کے باعث مارچ میں، سعودی عرب نے اوپیک کے ذریعے تیل کی پیداوار میں کمی کی تجویز پیش کی تھی۔ روس اوپیک کا رکن نہیں ہے اور اس نے سعودی تجویز کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تیل کی قیمتوں کو لے کر مقابلہ نظر آیا۔امریکی شیل آئل سعودی عرب اور روس دونوں کے لیے ایک چیلنج ہے۔ اگرچہ شیل آئل کی تیاری مہنگی ہے لیکن شیل آئل کی وجہ سے ہی امریکہ دنیا کے سب سے بڑے تیل درآمد کرنے والے ملک سے سب سے بڑا تیل برآمد کرنے والا ملک بن گیا۔ شیل آئل اور گیس کی مہنگی پیداوار کی وجہ سے روس کا خیال ہے کہ کوئی بھی اس کی منڈی کو چیلنج نہیں کر سکتا ہے۔ روایتی خام تیل (جو روس اور سعودی عرب میں ہے) کے مقابلے میں شیل آئل چٹانوں کی تہوں سے نکالا جاتا ہے۔ روایتی خام تیل چھ ہزار فٹ کی گہرائی سے نکالا جاتا ہے جبکہ شیل آئل کی پیداوار پیچیدہ ہے۔ سنہ 2018 میں امریکہ، سعودی عرب کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک بن گیا۔ امریکہ کے اس عروج نے سعودی اور روس کی تیل کی منڈی کو بھی متاثر کیا۔

جب کووڈ 19 کی وبا آئی تو تیل کی طلب میں زبردست کمی واقع ہوئی۔ اس کمی کے پیش نظر سعودی عرب اور روس کو اوپیک اور اوپیک پلس میں تیل کی پیداوار میں سخت کمی پر اتفاق کرنا پڑا۔ امریکہ کو بھی اپنی پیداوار میں روزانہ 20 لاکھ بیرل کم کرنا پڑے۔ تاہم امریکہ اور روس کے تیل کی پیداوار یا برآمد کم ہے اس لیے انھیں اتنا فرق نہیں پڑتا جتنا سعودی عرب کو پڑتا ہے۔ سعودی عرب کی معیشت کا دارومدار تیل پر ہے اور جیسے ہی تیل کی منڈی متاثر ہوتی ہے اس کی بادشاہت متزلزل ہو جاتی ہے اور مستقبل کے بارے میں خدشات جنم لینے لگتے ہیں۔ سعودی عرب کے تیل کی پیداوار اور برآمدات کو امریکہ کے ساتھ ساتھ روس کی طرف سے بھی سخت چیلنج درپیش ہے۔ پہلے امریکہ نے تیل کی پیداوار کے معاملے میں سعودی کو دوسرے نمبر پر دھکیل دیا اور اب روس سعودی کو تیسرے نمبر پر لے گیا ہے۔ جوائنٹ آرگنائزیشن ڈیٹا انیشیٹو (جے او ڈی آئی) کے مطابق روس نے جون کے مہینے میں تیل کی پیداوار کے معاملے میں سعودی عرب کو تیسرے نمبر پر پہنچا دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی روس، امریکہ کے بعد تیل کی پیداوار کے معاملے میں دنیا کا دوسرا بڑا ملک بن گیا ہے۔ جے او ڈی آئی مطابق جون کے مہینے میں روس کے تیل کی پیداوار روزانہ لگ بھگ 87 لاکھ بیرل تھی جبکہ سعودی عرب کی پیداوار صرف 7.5 ملین بیرل تھی۔ جون میں امریکہ تیل کی پیداوار کے حوالے سے سرفہرست رہا۔ جے او ڈی آئی کے مطابق جون میں امریکہ میں تیل کی یومیہ پیداوار ایک کروڑ 80 لاکھ بیرل تھی۔ اسی دوران سعودی عرب کے تیل کی برآمدات بھی مسلسل کم ہورہی ہے۔ سعودی تیل کی برآمدات جون میں یومیہ 50 لاکھ بیرل سے بھی نیچے آ گئی ہے۔ جے او ڈی آئی کے مطابق مئی کے مقابلے میں جون میں اس کی تیل کی برآمدات میں 17 اعشاریہ فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ جون میں سعودی عرب کے تیل کی یومیہ برآمدات 49 لاکھ بیرل سے زیادہ رہی۔ سعودی تیل کی پیداوار مئی میں روزانہ 60 لاکھ بیرل اور اپریل میں ایک کروڑ بیرل تھی۔ اب سعودی عرب کے سامنے چیلنج یہ ہے کہ وہ تیل سے اپنی معیشت کا انحصار کیسے کم کرے۔ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی خواہش ہے کہ وہ سعودی عرب کی معیشت کو تیل کی کمائی کے بغیر کھڑا کریں لیکن ابھی ایسا ممکن ہوتا نظر نہیں آ رہا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.