”جس ملک میں جمائما عمران خان کے بچے بھجوانے کے لیے تیار نہیں وہاں حسین دائود اپنے بچے اور پیسے کیوں رکھے گا؟” سینئر صحافی جاوید چوہدری نے پاکستانی حکمرانوں کو کامیابی کے گر بتا دئیے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی ،اینکر پرسن ، کالم نگار اپنے آج کے کالم میں لکھتے ہیں کہ ابن خلدون کا کہنا تھا تہذیب اور تمدن کا تعلق بازار اور منڈیوں سے ہوتا ہے‘ ان میں جتنی چہل پہل ہو گی اتنی اس ملک کی آمدنی ہو گی اور جتنی زیادہ آمدنی ہو گی اتنی ہی اس ملک کی بیوروکریسی‘ فوج اور تخت مضبوط ہو گا اور جتنا تخت مضبوط ہوگا اتنا ہی ملک کی تہذیب اور تمدن شان دار ہوگا۔

ابن خلدون کا کہنا تھا اگر کوئی بادشاہ اپنی سلطنت کو مضبوط دیکھنا چاہتا ہے تو وہ صرف دو کام کرے‘ وہ لوگوں کو کمانے کا موقع دے اور وہ لوگوں کو ان کی زمینوں‘ مکانوں‘ دکانوں‘ جائیدادوں اور مال کا تحفظ دے دے دنیا کی کوئی طاقت ملک کو ترقی سے نہیں روک سکے گی۔ہم آج دنیا کو دوحصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں‘ ایک وہ دنیا جس میں ہرشخص کا روزگار‘ ترقی کے مواقع اور زمین جائیداد بائبل کی طرح محفوظ ہیں اور دوسرے وہ ملک جن میں لوگوں کے مال کے ساتھ عزت اور عزت نفس بھی غیرمحفوظ ہے‘ آپ کو پہلے ملک ترقی یافتہ اور دوسرے تنزلی کے پاتال میں لڑھکتے نظر آئیں گے‘فرق ’’مال کا تحفظ‘‘ ہے‘ دنیا میں اس وقت دو ہزار چھ سو چار کھرب پتی ہیں‘ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے ان میں سے ایک بھی شخص کسی نیب کی حراست میں نہیں‘ دنیا میں لوگ روز دیوالیہ ہوتے ہیں لیکن یہ صرف لوگ ہوتے ہیں ادارے نہیں‘ ریاست اداروں‘ فیکٹریوں اور کمپنیوں کو بند نہیں ہونے دیتی‘دنیا کس قدر بزنس فرینڈلی ہے آپ اس کا اندازہ صرف ایک مثال سے لگا لیجیے‘ آپ کے پاس اگر ایک ملین ڈالر ہیں تو آپ خواہ دنیا کے کسی بھی ملک سے تعلق رکھتے ہوں آپ خاندان سمیت دنیاکے کسی بھی ملک کی شہریت لے سکتے ہیں‘ امریکا‘ کینیڈا اور یورپ سمیت دنیا کے تمام ترقی یافتہ ملک آپ کو پاسپورٹ دے دیں گے۔

کیوں؟ کیوں کہ آپ کمانے کا ہنر جانتے ہیں اور پوری دنیا کو کمانے والے لوگ چاہیے ہوتے ہیں جب کہ پاکستان کے تمام ارب پتی نیب کو مطلوب ہیں اور ان کے خاندان اس وقت ملک سے باہر بیٹھے ہیں‘ ان سب کی جیبوں میں غیر ملکی پاسپورٹ بھی ہیں‘ کیوں؟ کیوں کہ یہ جانتے ہیں اس ملک میں ان کا مال‘ جائیداد اور کاروبار محفوظ نہیں ہے چناں چہ یہ فاختائوں کی طرح اپنے انڈے محفوظ ملکوں میں رکھ رہے ہیں‘ دنیا میں ارب پتی بڑھ رہے ہیں جب کہ یہاں کم ہو رہے ہیں‘کیوں؟

خوف! آپ خوف کا عالم دیکھیے ہمارے وزراء اور مشیروں کی جیبوں میں بھی غیرملکی پاسپورٹ ہیں اور ان کے خاندان بھی دوسرے ملکوں میں ہیں‘ آپ ججوں‘ جرنیلوں‘ سیکرٹریوں‘ بزنس مینوں‘ جاگیرداروںحتیٰ کہ ایکٹروں تک کے خاندانوں کاڈیٹا نکال کر دیکھ لیجیے آپ کو ننانوے فیصد بااثر لوگوں کے بچے ملک سے باہر ملیں گے‘ کیوں؟ کیوں کہ یہ ان کو بھی یہاں محفوظ نہیں سمجھتے اور آپ ملک میں پچاس سال سے اوپر لوگوں کے انٹرویوز بھی کرلیں آپ کو ننانوے اعشاریہ ننانوے فیصد میچور لوگ اپنے منہ سے کہتے ملیں گے’’ اس ملک میں کچھ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

انسان بس اتنا کرے جتنی اسے ضرورت ہے‘‘ یہ درویشی‘ درویشی نہیں یہ تباہی ہے‘ آپ یاد رکھیں ہم جب ملک ریاض‘ حسین دائود‘ میاں منشائ‘طارق سہگل اورصدرالدین ہاشوانی جیسے لوگوں کو عبرت کی نشانی بنا دیں گے‘ حکومت جب اپنے ہاتھوں سے ان کی فیکٹریوں اور کمپنیوں کو تالے لگا دے گی تو پھر ملک نہیں چل سکے گا‘ ہم سلطان بہرام کا ملک بن جائیں گے اور یہ میں نہیں کہہ رہا یہ ابن خلدون نے ہزار سال پہلے کہہ دیا تھا چناں چہ آپ اگر ملک کو کام یاب دیکھناچاہتے ہیں تو پھر آپ لوگوں کو زمین‘ جائیداد‘ مال اور کاروبار کا تحفظ دے دیں۔

آپ یہ فیصلہ کر لیں ملک میں کاروبار کرنے والوں کو وزیر جتنی عزت دی جائے گی‘ کسی شخص کی ایک انچ زمین اور سو روپے پر بھی کوئی شخص‘ کوئی ادارہ قبضہ نہیں کر سکے گا‘یقین کریں یہ ملک دس سال میں سو سال کے برابر ترقی کر جائے گا ورنہ غیر محفوظ جگہوں پر تو پرندے بھی انڈے نہیں دیتے جب کہ ہم تو پھر بھی انسان ہیں‘ہم دلدل پر اپنے بچے اور اپنے اثاثے کیوں رکھیں گے؟ جس ملک میں جمائما عمران خان کے بچے بھجوانے کے لیے تیار نہیں وہاں حسین دائود اپنے بچے اور پیسے کیوں رکھے گا؟۔

Sharing is caring!

Comments are closed.