کیا آپ جانتے ہیں کچھ عرصہ قبل مصر اردن اور شام تینوں (اسلامی ممالک) نے ملکر اسرائیل پر بیک وقت چڑھائی کی تھی ، اس کارروائی کا کیا عبرتناک انجام ہوا تھا ؟ پول کھول دینے والی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) یوں لگتا ہے جیسے اسرائیل کی عسکری طاقت کے سامنے عالمِ عرب پورے قد کے ساتھ کھڑا ہونے کی سکت ہی نہیں رکھتا ۔ ترپن سال قبل عالمِ عرب کے تین ممالک ( مصر، اردن ، شام) نے ہمت اور اتحاد سے اسرائیل پر بیک وقت دھاوا بولا تھا لیکن اسرائیل نے پلٹ

کر ان تینوں کو نہ صرف عبرتناک شکست دی بلکہ تینوں اسلامی ممالک کے کئی علاقوں پر فوجی قبضہ بھی کرلیا۔ نامور کالم نگار تنویر قیصر شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔مصر اور اُردن کے کئی زیر قبضہ علاقے تو اسرائیل نے ’’مہربانی‘‘ سے چھوڑ دیے لیکن شام کے پہاڑی علاقے (گولان ہائٹس) ابھی تک اُس کی گرفت میں ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ اگر شام، اردن اور مصر میں آمریتیں نہ ہوتیں تو شائد جمہوریت اور عوامی طاقت سے تینوں ممالک کے عوام غاصب اسرائیل کے سامنے ڈٹے رہتے ۔بد قسمتی سے یہ تینوں ملک اب بھی جمہوریت کی نعمت سے محروم ہیں؛ چنانچہ ان کی طاقت اور مزاحمتی قوت بھی ہمارے سامنے ہے۔ پھر جمہوری اور جوہری اسرائیل کے سامنے عالمِ عرب کے حکمران کس طرح ہمت و قوت سے ڈٹ سکتے ہیں ؟سچ یہ ہے کہ عراق و شام کے ڈکٹیٹروں نے اسرائیل کے مقابل اپنے عوام کو مایوس کیا ہے ۔جمال عبدالناصر، صدام حسین اور حافظ الاسد اسرائیل کے سامنے ریت کے ٹیلے ثابت ہُوئے۔ بس ڈینگیں اور بڑھکیں مارتے رہے ۔ جب وقتِ قیام آیا تو عشروں تک عوام کی گردنوں پر سوار یہ آمر مسلمان حکمران اسرائیل کے سامنے ’’سجدے ‘‘میں چلے گئے۔اسرائیل کے خلاف نہ جمال ناصر کی ’’طاقتور ایئر فورس‘‘ بروئے کار آئی، نہ صدام حسین کے سکڈ میزائل کام آ سکے ، نہ حافظ الاسد کی ’’ بعث پارٹی ‘‘ نے وطن پر قربان ہونے کی ہمت کی اور نہ اردن کے شاہ حسین کی ہاشمی بادشاہت اسرائیل کے سامنے دَ م مار سکی ۔ سب بھوسہ ثابت ہُوئے ۔اسرائیل نے عراقی ایٹمی پلانٹ تباہ کر ڈالا لیکن صدام کچھ بھی نہ کر سکا۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اسرائیل سے شکست کے بعد بھی یہ چاروں آمر حکمران مدتوں اقتدار سے چپکے رہے۔ تو کیا اس پس منظر میں متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی راہ اپنائی ہے؟ اگرچہ متحدہ عرب امارات میں 15لاکھ سے زائد پاکستانی مزدوری کررہے ہیں لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان فلسطینیوں کی طرف پشت کرکے فی الحال اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکتا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.