ہم اس قیمت پر آپ کو تسلیم کر لیں اور اور کاروبار بھی کریں گے ۔۔۔ سعودی عرب نے اسرائیل کے سامنے کیا قیمت رکھ دی؟ جانیے

ریاض (ویب ڈیسک) سعودی شاہی خاندان کے سینئر رکن نے ایک بار پھر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب اس قیمت پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے گا جب خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آئے جس کا دارالحکومت یروشلم ہو۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز’ کے مطابق شہزادہ ترکی الفیصل نے بظاہر یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

کے اس بیان کے ردعمل میں دیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ سعودی عرب بھی، متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے معاہدے میں شامل ہوجائے گا۔انہوں نے سعودی اخبار ‘الشرق الأوسط’ میں لکھا کہ ‘کوئی بھی عرب ریاست جو متحدہ عرب امارات کے راستے پر چلنا چاہتی ہے اسے بدلے میں قیمت کا مطالبہ کرنا چاہیے، جبکہ یہ قیمت بڑی ہونی چاہیے۔’ان کا کہنا تھا کہ ‘سعودی عرب نے اسرائیل اور عربوں کے درمیان امن کی قیمت مقرر کر لی ہے اور یہ خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ہے جس کا دارالحکومت یروشلم ہو۔خیال رہے کہ 2002 کے عرب لیگ کے منصوبے میں اسرائیل کو تمام قابض علاقوں (مغربی کنارے، غزہ اور مشرقی یروشلم) سے پیچھے ہٹنے کے بدلے تعلقات معمول پر لانے کی پیشکش کی گئی تھی، فلسطین کے ان علاقوں پر اس نے 1967 کی مشرق وسطیٰ جنگ میں قبضہ کر لیا تھا۔شہزادہ ترکی الفیصل نے اپنے مضمون میں متحدہ عرب امارات کے فیصلے کے حق میں بھی بات کی اور کہا کہ ریاض کے قریبی اتحادی نے اہم شرط منوالی ہے کہ اور وہ اسرائیل کے انضمام کے منصوبوں کو روکنا ہے۔امریکا میں سابق سعودی سفیر اور سابق انٹیلی جنس سربراہ شہزادہ ترکی الفیصل کے پاس اس وقت کوئی سرکاری عہدہ نہیں ہے لیکن وہ کنگ فیصل سینٹر فار ریسرچ اینڈ اسلامک اسٹڈیز کے چیئرمین کی حیثیت سے اب بھی بااثر ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ‘امن معاہدہ’ ہوا تھا جس کے تحت دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات بحال ہوجائیں گے۔معاہدے کے مطابق اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے کے حصوں کے یکطرفہ الحاق کے اپنے منصوے کو مؤخر کردے گا۔تاہم اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو یہ بھی واضح کرچکے ہیں کہ یہ منصوبہ اب بھی موجود ہے۔یاد رہے کہ دو روز قبل یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان معاہدے کے حوالے سے پہلے ردعمل میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحال نے کہا تھا کہ ریاض، متحدہ عرب امارات کی تقلید میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات اس وقت تک قائم نہیں کرسکتا جب تک یہودی ریاست فلسطینیوں کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط نہ کردے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.