سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں کرائے کے سروے کے نتائج نے سعودی شاہی خاندان کا خوف بڑھا دیا، وزیر اعظم عمران خان اب کیاکرنے جا رہے ہیں؟

لاہور(نیوز ڈیسک) اینکر عمران خان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پہلے حجاز مقدس کے نام سے ہوا کرتا تھا اور سلطنت عثمانیہ کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ پھر سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا تو کئی عرب ملک بن گئے جن میں سعودی عرب اور یواے ای بھی شامل تھے۔ سعودی عرب پر آل سعود خاندان کی حکومت ہے، انہیں خطرہ ہے

کہ اگر سلطنت عثمانیہ کا دوبارہ احیاء ہوا تو سعودی عرب ان سے لے لیا جائے گا، مسلمان سعودی حکمرانوں کی عزت مقدس مقامات کی وجہ سے کرتے ہیں اور جان بھی دینے کو تیار ہیں۔اینکر عمران خان نے انکشاف کیا کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا چیف پہلی مرتبہ یواے ای پہنچ گیا ہے۔ یہ خفیہ ایجنسی پاکستان میں دہشتگردانہ کاروائیاں کرتی رہتی ہے اور پاکستان نے انہیں منہ توڑ جواب بھی دیا ہے۔اسرائیل کے قریب ممالک کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہ ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں۔سعودی عرب نے مسلمان ممالک کی حمایت لینے کیلئے ان ممالک میں انویسٹ کیا جبکہ ترکی نے بڑا ہی تکنیکی کام کیا ، اس نے انویسٹ نہیں کیا بلکہ میڈیا کو استعمال کیا اور ایسے ڈرامہ بنائے جو سلطنت عثمانیہ یا ترک مسلم ہیروز پر تھے جو سعودی عرب کو پسند نہ آیا۔سعودی عرب کو اعتراض ارطغرل غازی پر بھی ہے، جب یہ ڈرامہ پاکستان میں آن ائیر ہوا تو سعودی عرب نے سروے کرایا تو پتہ چلا کہ ترکی کا اس خطے میں بہت اثرورسوخ ہے۔ یہ چیز سعودی عرب کیلئے انتہائی مایوس کن تھی کہ ہم نے اتنا انویسٹ کیا، امداد دی پھر بھی یہ ترکوں کو ہم سے بہتر سمجھتے ہیں، ان کو لگ رہا ہے کہ آنیوالے دنوں میں ترک مسلمانوں کو لیڈ کریں گے۔ انہیں لگتا ہے کہ ترک حجاز مقدس کی ذمہ داری واپس لینے کی کوشش کریں گے، اس وجہ سے سعودی عرب پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ آپ یہ ڈرامہ نہ دکھائیں بلکہ اپنی پبلک کو ہمارے ساتھ جوڑیں۔سعودی عرب یہ سب یکطرفہ چاہتا تھا، پاکستان سعودی عرب سے جو چاہتا تھا وہ سعودی عرب نے نہیں دیا، کشمیر کے ایشو پر مہاتیر محمد نے حمایت کی، ایران نے لبیک کہا، مہاتیر محمد نے کشمیر ایشو پر بات کی حالانکہ انہیں کچھ نقصان اٹھانا پڑا لیکن کشمیر کے ایشو پر وہ بولے لیکن سعودی عرب نے اوآئی سی میں پاکستان کو ٹف ٹائم دیا جس کی وجہ سے بدمزدگی پیدا ہوئی۔پاکستان کیلئے بہت مشکل صورتحال ہے، پاکستان کو سعودی عرب سے بھی تعلقات رکھنے ہیں لیکن ترکی اور باقی ممالک سے بھی بناکر رکھنا ہے، جو نیا بلاک بن رہا ہے جس میں ایران، روس، چین، پاکستان ، ملائیشیا اور کچھ سنٹرل ایشیا کے ممالک ہیں، ہم سعودی عرب سے اسلئےبگاڑ سکتے کیونکہ وہاں سے سالانہ 9 ارب ڈالر کا زرمبادلہ آتا ہے۔ اس دوران وزیراعظم عمران خان کا ایک بیان ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے اور فلسطین نے یہ کہہ کر پاکستان کا شکریہ اداکیا کہ ہم پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔ وزیراعظم نے دوٹوک کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ہمارا جوسٹینڈ کل تھا وہی آج ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.