ہمارے روزمرہ کھائے جانے والے کھانے جو دماغ کی کارکردگی کو بُری طرح متاثر کرتے ہیں

دماغ انسانی جسم کا سب سے اہم عضو ہے جسکے بغیر زندگی نا ممکن ہے، دماغ جسم کے تمام اعضا کو حرکت میں رکھتا ہے اور اسی لیے ضروری ہوتا ہے کہ دماغ کوصحت مند کھانوں کے ساتھ چاک و چوبند رکھا جائے، ہمارے روز مرہ کھائے جانے والے کھانوں میں سے کُچھ کھانے ایسے ہیں جو دماغ کی صحت پر انتہائی بُرا اثر ڈالتے ہیں یہ ہماری یادشت کو متاثر کرتے ہیں ہمارے مُوڈ کو خراب کرنے کا باعث بنتے ہیں اور ہمیں عتاہٹ جیسی بیماری میں مبتلا کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔
اس آرٹیکل میں ہم اُن کھانوں کا ذکر کریں گے جو دماغی افعال پر اثر اندازہوتے ہیں تاکہ آپ اپنی روزمرہ کی خوراک سے دماغ کو چاک و چوبند رکھنے کے لیے ایسے کھانے نکال دیں۔

نمبر 1 میٹھے کھانے اور میٹھے ڈرنکس
میٹھے کھانوں اور میٹھے ڈرنکس (سوڈا، انرجی ڈرنکس، فروٹ جوسسز) وغیرہ کا زیادہ استعمال جہاں موٹاپے جیسی بیماریوں کو پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے وہاں ہماری دماغی صلاحیتوں کو بھی خطرناک حد تک متاثر کرتا ہے۔
کھانے میں میٹھے کا زیادہ استعمال ٹائپ 2 ذیابطیس کو ہمارے جسم میں دعوت دیتا ہے اور یہ ذیابطیس خطرناک دماغی بیماری الزائمر کا باعث بنتی ہے۔
میٹھے کھانے جہاں موٹاپا پیدا کرتے ہیں وہاں ہائی بلڈ پریشر پیدا کرتے ہیں خون میں چربی بڑھاتے ہیں، اور خون کے نظام ترسیل کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ خطرناک دماغی بیماری Dementia کاباعث بنتے ہیں۔

نمبر 2 بازاری کھانے جنک اور فاسٹ فوڈ
بازاری کھانوں اور فاسٹ فوڈز وغیرہ میں جہاں شوگر کا استعمال کیا جاتا ہے وہاں ان کھانوں میں بہت زیادہ ریفائن آٹا یعنی میدہ بھی استعال ہوتا ہے اور ایسے کھانے ہمارے جسم کا گلیسمیک انڈیکس GI کو بڑھاتے ہیں یعنی یہ کھانے فوری طور پر ہضم ہوجاتے ہیں اور خون میں شوگر اور انسولین لیول کو بڑھانے کا باعث بنتے ہیں اور جب ایسے کھانے زیادہ مقدار میں کھائے جائیں تو یہ گلیسمیک لوڈ GL کو بڑھانے کا باعث بنتے ہیں (گلیسمیک لوڈ کا مطلب ہے کہ کھانے کی ایک مقدار خون میں کتنے شوگر لیول کا اضافہ کرتی ہے)۔
میڈیکل سائنس کی تحقیات کے مطابق گلیسمیک لوڈ کی زیادہ مقدار والے کھانے بڑوں سمیت بچوں کی یاداشت کو بھی متاثر کرنے کا باعث بنتے ہیں اور اُن کے پڑھنے لکھنے اور سیکھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتے ہیں۔

نمبر 3 ٹرانس فیٹ یعنی گھٹیا چکنائی
ٹرانس فیٹ دماغی صلاحیتوں کو بُری طرح متاثر کرتی ہے اور یہ فیٹ عام طور پر ہمارے کوکنگ آئل اور بناسپتی گھی وغیرہ میں بڑی مقدار میں پائی جاتی ہے اور سائنس کی کئی تحقیقات کے مطابق یہ مصنوعی چکنائی جہاں الزائمر جیسی دماغی بیماری کا باعث بنتی ہے وہاں یاداشت کو کمزور بناتی ہے اور جسم میں دیگر کئی طرح کی دائمی بیماریوں کو دعوت دیتی ہے جس میں دل کی بیماریاں ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرال اور موٹاپا وغیرہ سر فہرست ہیں۔

نمبر 4 پراسیسڈ فوڈز
ایسے بازاری کھانے جو پہلے سے پراسیسڈ ہوتے ہیں اور گھر میں لاکر اُنہیں تیل یا گھی میں فرائی کر کے کھایا جاتا ہے جیسے بچوں کے نگٹس، سموسیاں، چکن ونگز وغیرہ اور آلو کی چپس سلانٹیاں بسکٹ وغیرہ ہماری صحت پر بہت زیادہ منفی اثرات مرتب کرتے ہیں ان کھانوں میں شوگر کا استعمال کیا جاتا ہے اور یہ کیلوریز سے بھر پور اور غذائیت سے محروم ہوتے ہیں اور ہماری دماغی صلاحیتوں کو بُری طرح متاثر کرنے کا باعث بنتے ہیں۔

نمبر 5 مصنوعی شوگر
بازار میں ملنے والی شوگر فری مٹھاس اور شوگر فری ڈرنکس میں استعمال ہونی والی یہ مٹھاس جسے عام طور پر ذیابطیس کے مریض یہ سمجھ کر استعمال کرتے ہیں کہ اس سے شوگر نہیں ہوگی ہماری صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ چیز ہے یہ دماغ کوکمزور کرتی ہے ہمارے اندر چڑچڑا پن پیدا کرتی ہے اور ہماری شخصیت کو نقصان پہنچاتی ہے۔

نمبر 6 نمک والے کھانے
نمک میں سوڈیم کی ایک بڑی مقدار شامل ہوتی ہے اورزیادہ سوڈیم والے کھانے جہاں ہائی بلڈ پریشر اور دل کی خطرناک بیماریوں کے علاوہ اور کئی بیماریوں کا باعث بنتےہیں وہاں میڈیکل سائنس کی جدید تحقیقات کے مطابق یہ دماغی افعال اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کرنے کا باعث بنتے ہیں۔

نوٹ: صحت مند زندگی کے لیے صحت مند خوراک استعمال کرنا بہت زیادہ ضروری ہے اور اگر آپ اس چیز پر عمل نہیں کریں گے تو یہ آپ کی صحت کو شدید نقصان پہنچائے گی اس لیے اپنی خوراک پر خاص دھیان دیں اور اوپر ذکر کیے گئے تمام کھانوں کو اپنی روزمرہ کی خوراک سے حذف کر دیں اور یاد رکھیں صحت بہت بڑی نعمت جس کے بغیر انسان جینا پسند نہیں کرتا

Sharing is caring!

Comments are closed.