اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے۔۔!! سعودی عرب پاکستان کا ہم آواز بن گیا، دو ٹوک اعلان کر دیا

برلن (نیوز ڈیسک ) اسرائیل فلسطین کے مسئلے پر سعودی عرب بھی پاکستان کا ہم آواز بن گیا۔ سعودی وزیر مملکت برائے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ ہفتے متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے سفارتی تعلقات استوار کر لیے تھے جس کے بعد

مسلم دنیا کی طرف سے شدید رد عمل کا اظہار کیا جا رہا تھا۔برلن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے خارجہ عدیل الجبیر کا کہنا ہے کہ ہم اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات کی پیروی نہیں کریں گے۔بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل جب تک فلسطین کے ساتھ امن معاہدہ نہیں کرتا تسلیم نہیں کریں گے، فلسطینیوں کے بغیر خطے میں امن کا قیام ممکن نہیں،یاد رہے کہ گزشتہ روز متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی بحالی کے معاہدے کے بعد امریکا نے سعودی عرب پر زور دیا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرے۔اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور وائٹ ہاؤس کے مشیر جیرڈ کشنر کا کہنا تھا کہ یہ سعودی عرب کے مفاد میں ہوگا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے جیسا کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے کیا ہے۔صحافیوں کو ٹیلیفونک بریفنگ میں ان کا کہنا تھا کہ اس سے خطے میں ان کے مشترکہ حریف ایران کے اثر و رسوخ کو بھی کم کیا جاسکے گا اور بالآخر فلسطینیوں کی مدد ہوگی۔انہوں نے کہا تھا کہ سعودی عرب کے کاروبار، دفاع کے لیے بہت اچھا ہوگا اور میں واضح طور پر کہوں تو میرے خیال سے اس سے فلسطینیوں کی بھی مدد ہوگی۔خیال رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نتن یاہو نے کہا تھا کہ وہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدے کے حصے کے طور پر مقبوضہ مغربی کنارے کے الحاق میں تاخیر پر راضی ہو گئے ہیں لیکن منصوبہ ابھی بھی زیر غور ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ معاہدے میں انہوں نے مغربی کنارے کے ساتھ الحاق کے منصوبوں کو موخر کیا تھا لیکن وہ اپنی سرزمین پر حقوق سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔نیتن یاہو، یہودی ریاست میں کئی لوگوں کی طرح مقبوضہ مغربی کنارے کو یہودیہ اور سامریہ بتاتے ہیں اور اس علاقے کو یہودیوں کے تاریخی آبائی حصے کے طور پر دعوی کرتے ہیں

Sharing is caring!

Comments are closed.