آپؐ کے پاس ایک عورت آئی۔۔

ایک عورت آپ کے پا س آئی اور اپنے شو ہر کی شکا یت کی کہ وہ بہت زیادہ اپنے دوستوں کو گھر دعوت دیتا رہتا ہے۔اور کھانے بنا بنا کر ان کی مہمانداری میں تھک جاتی ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا اوروہ عورت واپس چلی گئی کچھ دیر بعد رسول پاک نے اس عورت کے شوہر کو بلوایا اور فرمایا کہ آج میں تمہارا مہمان ہوں، وہ آدمی بہت خوش ہوااورگھر جاکراپنی بیوی کو بتایا کہ اآج رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہمارے مہمان ہونگے۔اس کی بیوی بے حد خوش ہوگئی اوراپنے سب سے معززترین مہمان رسول کریم کےلئے اہتمام کرنے لگی۔اس دعوت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس شخص سے کہا کہ اپنی بیوی سے کہنا کہ اس دروازے کو دیکھتی رہے۔جس سے میں باہر جائونگا۔تواس میزبان کی بیوی نے ایسا ہی کیا اوروہ دیکھتی رہی کہ کس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم گھر سے نکلتے ہیں۔آپ کے پیچھے بہت سے حشرات ، بچھو اوربہت سے مہلک حشرات بھی گھر سے باہر نکل گئے ۔ یہ عجیب وغریب منظر دیکھ کر میزبان کی بیوی بے ہوش ہوگئی۔جب وہ رسول پاک کے پاس آئی تو آپ نے فرمایا کہ یہ ہوتا ہے جب تمہارے گھر سے مہمان جاتا ہے۔تو اپنے ساتھ ہرطرح کے خطرات ، مشکلات اورآزمائشیں اورمہلک جاندار گھر سے باہر لے جاتا ہے۔یہ اسی وجہ سے ہوتا ہے کہ تم محنت کرکے اس کی خدمت مدارت کرتی ہو۔جس گھر میں مہمان آتے جاتے رہتے ہیں اللہ اس گھر سے محبت کرتا ہے ایسے گھر پر اللہ کی رحمت اوربخشش نازل ہوتی رہتی ہے۔رسول پاک نے فرمایا جب اللہ کسی کی بھلائی چاہتا ہے توا سے نوازدیتا ہے۔انہوں نے پوچھا : کس انعام سے؟توآپﷺ نے فرمایا مہمان اپنا نصب لیکر آتا ہے اورجاتے ہوئے گھروالوں کے گناہ اپنے ساتھ لے جاتا ہے

Sharing is caring!

Comments are closed.