آیا صوفیہ مسجد میں دیگر مذاہب کے لوگوں کو داخل ہونے کی اجازت ہوگی یا نہیں؟ ترک حکومت نے واضح کر دیا

استنبول (ویب ڈیسک) ترک صدر کے ترجمان ابراہیم قالن کہتے ہیں آیا صوفیہ مسجد بننے کے بعد بھی تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لئے کھلی رہے گی ۔آیا صوفیہ مسجد بحالی کے عدالتی فیصلے پر بعض حلقوں کے بیانات ترکی مخالف بیانئے کا حصہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ ترکی میں ہر شخص کو مکمل مذہبی آزادی

حاصل ہے جو جس کی چاہے عبادت کرے ریاست کی طرف سے تمام مذاہب کے ماننے والوں کو اپنی اپنی عبادت کی مکمل آزادی ہے۔آیا صوفیہ میوزیم کو دوبارہ سے مسجد بنانے پر بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیتھولک عیسائیوں کے پیشوا پاپ فرانسس کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے ابراہیم قالن نے کہا ہم نے آیا صوفیہ کو صرف سیاحتی مقام کی حیثیت سے نکال کر اللہ تعالی کا ورد کی جانے والی مسجد میں تبدیل کیا ہے۔ اس مقام کو گرجا گھر سے مسجد میں نہیں بلکہ میوزیم سے مسجد بنایا گیا ہے جس کی ثقافتی ورثے کی حیثیت میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ابراہیم قالن نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آیا صوفیہ میں موجود تمام پرانی شبہیوں کا جیسے 500 برسوں سے تحفظ کیا جارہاہے اب بھی ان کا تحفظ کیا جائے گا۔ دوران نماز ان کو ڈھک دیا جائے گا لیکن ان کی اصلی ماہیت برقرار ر ہے گی۔ دیگر سیاح اس سے پہلے کی طرح اب بھی اس عظیم معماری ورثے کی زیارت کر سکیں گے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *