سلطان محمد فاتح مرحوم کا وہ مشن جو اپنے ایک غدار کی وجہ سے ادھورا رہ گیا ، حافظ قران طیب اردگان اسے پورا کرے گا ۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ایک زبردست معلوماتی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) آپ نے پچھلے چند سال میں ترکی کے صدر محترم جناب طیب رجب ایردوان کے بارے میں بہت کچھ دیکھا اور پڑھا ہوگا۔ یہ ایک مجاہدِ اسلام اور انسانیت دوست شخصیت ہیں۔ آپ حافظِ قرآن ہیں اور بہت پیاری قرات کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بہت پیاری آواز عطا کی ہے۔

نامور پاکستانی سائنسدان وکالم نگار ڈاکٹر عبدالقدیرخان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔صدر ایردوان کا رویہ غیرملکیوں کے ساتھ نہایت پُروقار ہے۔ میں ترکی درجنوں بار گیا ہوں، وہاں کی کمپنیوں سے ہمارے تجارتی تعلقات تھے۔ امریکیوں نے صدر دمیریل پر دبائو ڈالا تھا کہ وہ تجارت بند کردیں۔ انہوں نے صاف انکار کردیا تھا بعد میں وزیراعظم بلند ایچیوت پر بھی زور ڈالا مگر جواب کورا ملا۔ ترکی بےحد خوبصورت ملک ہے اور اس کی جان استنبول ہے۔ لاتعداد اعلیٰ تاریخی عمارتیں، وار میوزم، سرائے (محلات) اور کھانے نہایت لاجواب ہیں۔ترکوں اور ترکی کی تاریخ چار ہزار سال پُرانی ہے۔ ترک پہلے وسط ایشیا میں رہتے تھے۔ گیارہویں صدی عیسوی میں اناطولیا میں بس گئے تھے۔ 1299میں عثمان نامی ترک نے ترکوں کی حکومت کی بنیاد ڈالی۔ یہ بہت تیزی سے پھیلے اور چودھویں صدی میں سلطنت عثمانیہ کی بنیاد ڈال دی۔ تقریباً 623سال تک ترکوں نے مشرقی یورپ، تمام عرب ممالک، چینی ترکستان وغیرہ پر حکومت کی اور 1453میں سلطان محمد فاتح نے استنبول (سابقہ قسطنطنیہ) فتح کرلیا اور مشرقی یورپ پر قبضہ کر لیا۔ 1682میں انہوں نے ویانا کا محاصرہ کرلیا تھا۔ اگر تیمور عقب سے دھاوا نہ بولتا تو سلطان بایزید یلدرم آسٹریا، جرمنی کو فتح کرلیتے مگر مسلمانوں کی تاریخ ایسے غدّاروں سے بھری پڑی ہے۔ یونان، بلغاریہ، یوگو سلاویہ، البانیہ، رومانیہ اور وسط ایشیا، یمن، سوڈان، ویانا تک، ایران اور اسپین تک ترکوں کی حکومت تھی۔ جب صنعتی انقلاب آیا تو ترک حکمراں، محلات، باغات میں لگ گئے اور حرم بنا لئے اور پہلی ورلڈ وار میں اتنی بڑی سلطنت ٹوٹ پھوٹ کر صرف موجودہ ترکی رہ گیا۔

وہ تو یہ خوش قسمت تھے کہ کمال اتاترک اور ان کے ساتھیوں نے مغربی ممالک اور یونان کو اپنے ملک سے نکال دیا اور ایک جمہوریہ بنادیا۔ انگلستان، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ آج تک گلی پولی کی لڑائی نہیں بھولے جس میں بری طرح شکست ہوئی۔ میں بات کررہا تھا موجودہ صدر ترکی کی، آئیے دیکھئے کہ انھوں نے اپنے ملک کو لوٹا نہیں اس کو ترقی کی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ اللہ پاک ان کو تندرست و خوش و خرم رکھے، عمر دراز کرے اور ان کی بہتر کارکردگی میں رہنمائی فرمائے۔ آمین۔دوسری شاندار شخصیت ڈاکٹر مہاتیر محمد ہیں جنہوں نے ملیشیا کو ترقی کی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کے سامنے مثالیں بھی ہیں مگر ان کا تمام وقت الزامات میں گزرتا ہے جبکہ کارکردگی زیرو ہے۔صدر جناب ایردوان کی اعلیٰ کارکردگی۔(1) 2013میں مسلم ترکی ملک کی کل ملکی پیداوار ایک ٹریلین سو ملین ڈالر تھی جو کہ مشرق وسطیٰ کی مضبوط ترین تین اقتصادی قوتوں یعنی ایران، سعودی عرب اور متحدہ امارات کی مجموعی پیداوار کے برابر۔ اردن، شام اور لبنان جیسے ملکوں کا تو شمار ہی نہیں ہے۔(2)ایردوان نے سالانہ تقریباً 10پوائنٹس کے حساب سے اپنے ملک کی معیشت کو 111نمبر سے 16نمبر پر پہنچا دیا،جس کا مطلب ہے کہ ترکی دنیا کی 20بڑی طاقتوں (G-20)کے کلب میں شامل ہو گیا ہے۔(3)ایردوان نے ترکی کو دنیا کی مضبوط ترین اقتصادی اور سیاسی قوت بنانے کےلئے 2023کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ترکی اس عزم میں کامیاب ہوتا ہے؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔(4)

استنبول ایئرپورٹ یورپ کا سب سے بڑا ایئر پورٹ ہے۔ اس میں یومیہ 1260پروازیں آتی ہیں۔ مقامی ایئر پورٹ کی صبح کی 630فلائٹس اس کے علاوہ ہیں۔ ترک ایئرلائن مسلسل تین سال سے دنیا کی بہترین فضائی سروس ہونے کا اعزاز حاصل کررہی ہے۔(5)ترکی نے جنگلات اور پھل دار درختوں کی شکل میں 2بلین 770ملین درخت لگائے ہیں۔(6)اس دور حکومت میں ترکی نے پہلا بکتر بند ٹینک، پہلا ایئرکرافٹ، پہلا ڈرون اور پہلا سیٹلائٹ بنایا ہے۔ یہ سیٹلائٹ عسکری اور بہت سے دیگر امور سرانجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔(7)اردوان نے 10سال کے دوران 125نئی یونیورسٹیاں، 189اسکول، 510اسپتال اور 1لاکھ 69ہزار نئی کلاسیں بنوائیں تاکہ طلبہ کی تعداد فی کلاس 21 سے زیادہ نا ہو۔(8)گزشتہ مالی بحران کے دوران جب امریکہ اور یورپ کی یونیورسٹیوں نے بھی اپنی فیسیں بڑھا دی تھیں ان دنوں میں بھی ایردوان نے حکم نامہ جاری کیا کہ تمام یونیورسٹیوں اور کالجوں میں تعلیم مفت ہوگی اور سارا خرچ حکومت برداشت کرے گی۔(9)پہلے ترکی میں فی فرد آمدنی 3500ڈالر سالانہ تھی جو 2013میں بڑھ کر 11ہزار ڈالر سالانہ تک پہنچ گئی تھی۔ یہ شرح فرانس کی فی فرد شرح آمدنی سے زیادہ ہے۔ اس دوران ترکی کرنسی کی قیمت میں 30گناہ اضافہ ہوا۔(10)ترکی کی بھرپور کوشش ہے کہ 2023تک علمی تحقیق کے لئے 3لاکھ اسکالرز تیار کئےجائیں۔(11)اہم ترین سیاسی کامیابیوں میںیہ بھی شامل ہے کہ ایردوان نے قبرص کے دونوں حصوں میں امن قائم کیا اور کرد کارکنوں کے ساتھ برابری کی سطح پر مذاکرات کے ذریعے خون خرابے کو روکا۔ آرمینیا کے ساتھ مسائل کو سلجھایا۔ یہ وہ مسائل ہیں جن کی فائلیں گزشتہ 9دہائیوں سے رکی ہوئی تھیں۔(12)ترکی میں تنخواہوں اور اجرتوں میں 300فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مزدور کی کم از کم تنخواہ 340لیرہ سے بڑھ کر 957لیرہ ہو گئی ہے۔ کام کی تلاش میں پھرنے والوں کی شرح 38فیصد سے گھٹ کر 2فیصد پر آگئی ہے۔ (ش س م)

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *