بریکنگ نیوز: پاکستان کی قسمت بدلنے کا وقت آگیا ، سی پیک کے نتائج ظاہر ہونا شروع ۔۔۔۔ قوم کو زبردست خوشخبری سنا دی گئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ سی پیک کے تحت 20 منصوبے مکمل کیے جاچکے ہیں جن کے ثمرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ خطے پر سی پیک کے اثرات سے متعلق ویبنار سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ سی پیک کے تحت

ملتان سکھر موٹروے پر کام جاری ہے، پشاور سے کراچی ریلوے منصوبہ ایم ایل ون کا جلد سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہاکہ گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے دنیا براہ راست سی پیک سے منسلک ہوگی۔ گوادر میں کھارے پانی کو میٹھا بنانے کا پلانٹ بھی مکمل کیا جارہا ہے۔ چین کے تعاون سے دیامر بھاشا ڈیم پر بھی کام جاری ہے۔ صدر مملکت نے کہاکہ دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر سے 16 ہزار ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے ۔ سی پیک کی تکمیل سے ملک کے اندر بھی تجارت میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ کرونا وباء کی وجہ سے سیاحت کا شعبہ کافی متاثر ہوا ہے۔ کرونا سے نمٹنے کے معاملے پر چین نے ہرممکن تعاون فراہم کیا۔ سی پیک صرف سڑکوں کی تعمیر کا منصوبہ نہیں بلکہ معیشت کے تمام شعبوں میں تعاون شامل ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اور چین کے درمیان آئی ٹی کے شعبے میں تعاون بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ صدر نے کہاکہ سی پیک سے خطے میں امن ترقی اور خوشحالی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ بعض قوتیں بلوچستان میں مداخلت کرکے سی پیک کیخلاف سرگرم ہیں۔ چینی سفیر یائو جِنگ نے کہا کہ وہ وبا شروع ہونے کے بعد ہی سے دونوں ممالک کے مابین باہمی تعاون کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ چین کو جب کووڈ-19 بحران کا سامنا تھا تو فروری میں پاکستان نے نہ صرف چین کو مدد فراہم کی بلکہ صدر پاکستان عارف علوی نے دورہ چین کے ذریعے سے چین سے یکجہتی

کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پہلا ملک ہے جس کے ساتھ چین ویکسین تیار کرنے والی تحقیقی معلومات کا تبادلہ کر رہا ہے۔ سی پیک کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی پیک پراجیکٹس میں 13000 چینی ٹیکنیشن، انجینئر اور ماہرین کام کر رہے ہیں جبکہ 60000 سے زیادہ پاکستانی ملازمین بھی کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کووڈ-19 بحران کے تناظر میں پاکستان کے لئے چینی امداد کا بھی ذکر کیا جس کی مالیت 15 ملین ڈالر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک چین سے 10 چارٹرڈ طیارے ماہرین اور آلات لے کر پاکستان پہنچے ہیں اور حکومت پاکستان کی درخواست پر رواں ماہ کے آخر تک 1000 مزید و ینٹی لیٹر پاکستان کو فراہم کیے جائیں گے۔گوادر پرو کے مطابق انہوں نے یہ بات بطور مہمانان خصوصی اپنے خطابات میں وبائی مرض کے بعد کے دور میں چین پاکستان تعاون کے نئے مواقع اور چیلینجز کے بارے میں ویبنار میں شرکت کے دوران کی۔ سلک روڈ تھنک ٹینک ایسوسی ایشن کی رہنمائی میں ویبنار کا اہتمام چائنہ سینٹر فار کنٹمپریری ورلڈ اسٹڈیز ، نیشنل انسٹیٹو ٹ آف انٹرنیشنل اسٹرٹیجی آف سی اے ایس ایس، بی آر آئی انٹرنیشنل تھیک ٹینک آ ف سی اے ایس ایس ، ایس ڈی پی آئی اور ریسرچ اینڈ ڈویلپنمٹ انٹرنیشنل کے ساتھ پاکستان چائنہ انسٹیٹیوٹ کے تعاون سے کیا گیا۔ویبنار کی صدارت12 ویں این پی سی امور خارجہ کمیٹی کی وائس چیئر پرسن ،بی آر آئی انٹرنیشنل تھنک ٹینک کی مشاورتی کمیٹی کی صدر

اورآ ر ڈی آئی مشاورتی کمیٹی کی چیئر پرسن چابینگ نے کی۔ چینی سفیر یاؤ جِنگ نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری ایک بار بھی کورونا وائرس کے پھیلنے کے دوران بھی نہیں رک سکی اور اس دوران سی پیک منصوبوں پر کام کرنے وا لا کو ئی بھی شخص وائرس سے متاثر نہیں ہوا۔حال ہی میں لانچ کیا گیا کوہالہ پن بجلی گھر ، آزاد پتن پن بجلی گھر ، اور دیامر باشا ہائیڈرو پاور پلانٹ مقامی افراد کیلئے سرمایہ کاری اور ہزاروں ملازمت کے مواقع فراہم کرے گا ، یہ سی پیک کی داخلی طاقت کی واضح مثال ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ اسپتالوں ، لیبارٹریوں کی تعمیر کرکے معاشرتی بہبود میں بہتری لانے کی کوشش کرے گا ، اور متعلقہ تنظیموں کو طبی سامان مہیا کرے گا۔مشاہد حسین نے کہا کہ اتحاد اور تعاون پاک چین تعلقات کے دو ستون ثابت ہوئے ہیں اور انہوں نے پاکستان کو وبائی امراض سے نمٹنے کے لئے طبی سامان اور ماہرین بھیجنے پر چین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے سی پیک کے پہلے مرحلے کی کامیابی کو سرہاتے ہوئے اور دوسرے مرحلے میںتین ہائیڈرو پاور پلانٹ کے اچھے آغاز پر خوشی کا اظہار کیا۔ ڈائریکٹر جنرل آف چائنہ سنٹر فار کنٹنپریری سٹڈیز جن ژن، ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ ڈان انسٹی ٹیوٹ آف بیلٹ اینڈ روڈ اینڈ گلوبل گورننس ہوانگ رینوی اور ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل نیشنل انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل سٹریٹجی آف دی اے ایس ایس واے ہیلنگ سمیت چینی تھنک ٹینکس کے اہم مقررین نے شرکت کی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.