اچھا تو یہ بات تھی۔۔۔سعودی اور اماراتی وزرائے خارجہ اکھٹے کس مشن پر پاکستان آئے؟ بالاخر کہانی سامنے آگئی، پاکستانیوں کے لیے سرپرائز

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) جب سے بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی ہے کشمیری مسلمانوں پر ظلم کا سلسلہ شروع کیا ہے اور اب تک مقبوضہ کشمیرمیں مسلسل کرفیو کا نفاذ ہے تب سے دو بڑے اسلامی ممالک کی جانب سے کسی قسم کا مذمتی بیان جاری نہیں کیا گیا تھا جس کی وجہ سے اُمت مسلمہ میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے کل


دونوں اسلامی ممالک متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے اکٹھے پاکستان کا دورہ کیا اور اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کی اندرونی کہانی یہ سامنے آئی کہ عرب دوستوں نے پاکستان پر واضح کیا کہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع ہے، اسے مسلم امّہ کا مسئلہ نہ بنایا جائے۔اس خبر کو انکشاف کے طور پر نہیں لیا جاسکتا کیونکہ وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور فواد چوہدری پہلے ہی پاکستانیوں کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے اور انہیں یہ بات اعلیٰ سطح کے رابطوں کے دوران سمجھ آچکی تھی۔ وزیرِاعظم عمران خان کی حکومت نے اسی لیے اس خبر پر نہ بُرا منایا اور نہ ہی اس کی تردید کی ضرورت محسوس کی گئی۔بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کو اعلیٰ ترین سول اعزاز دینے کے بعد اماراتی وزیرِ خارجہ کا سعودی ہم منصب کے ساتھ پاکستان آنا اہم ہے۔ ایک تو نریندر مودی کو ایوارڈ دینے سے اماراتی شیخوں کے بارے میں پاکستان میں رائے عامہ متاثر تھی دوسری وجہ یہ تھی کہ یہ واضح کیا جائے کہ نریندر مودی کو ایوارڈ دینے سے عرب امارات پاکستان کے ساتھ دشمنی نہیں کر رہا۔ تیسری وجہ
اسرائیل فلسطین تنازع پر امریکی صدر کے ’ڈیل آف دی سنچری‘ کے اجرا کی تاریخ کا

قریب آنا ہے۔ فلسطین تنازع کو بھی کشمیر کے ساتھ ملا کر دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ فلسطین پر بھی عربوں کا مؤقف کشمیر کی طرح بدل گیا ہے۔پاکستان میں اماراتی شیخوں سے متعلق رائے عامہ ہمارے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی پہلے ہی ہموار کرچکے ہیں۔ جہاں تک بات ہے دشمنی کا تاثر ختم کرنے کی تو یہ اماراتی شیخوں کی ضرورت بھی ہے اور مجبوری بھی۔ عالمی سچائی کے طور پر ایک محاورہ سفارت کاری کا حصہ ہے کہ اگر تم اپنے حریف کو شکست نہیں دے سکتے تو اس کے شراکت دار بن جاؤ۔عرب امارات کو سی پیک اور گوادر سے کتنی ہی پرخاش کیوں نہ ہو یہ حقیقت ہے کہ چین سی پیک سے پیچھے ہٹے گا اور نہ ہی گوادر منصوبے کو ناکام ہونے دے گا۔امارات کو ان دونوں منصوبوں سے ڈر ہے لیکن اسے یہ بھی علم ہے کہ وہ انہیں روکنے کی پوزیشن میں نہیں، اس لیے وہ سفارت کاری کے اس سنہرے اصول پر عمل پیرا ہے۔ امارات پاکستان کو دشمن بنانے کی پوزیشن میں نہیں لیکن بھارت کے ساتھ مفادات بھی جڑے ہیں، اس لیے اس نے واضح کردیا ہے کہ کشمیر کو چھوڑ کر باقی تمام امور پر پہلے کی طرح تعلقات اور تعاون برقرار رہے گا۔سعودی وزیرِ خارجہ اماراتی ہم منصب کے ساتھ آئے تاکہ وہ ثالثی کا کام کریں۔ سعودی عرب اور امارات یمن جنگ میں حلیف سے حریف بنتے جا رہے ہیں لیکن سعودی عرب اس امید پر امارات کا ساتھ نبھا رہا ہے کہ

یمن میں امارات جنوبی یمن کی علیحدگی پسند کونسل کی سرپرستی چھوڑ دے گا۔اسرائیل میں 17 ستمبر کو ہونے والے انتخابات کے نتائج کے فوری بعد اسرائیل فلسطین امن منصوبے کی نقاب کشائی ہونا ہے۔ امریکی صدر کے نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ جیسن گرین بلاٹ کا استعفیٰ اس امن منصوبے میں رکاوٹ نہیں بنے گا بلکہ یہ ایک اشارہ ہے کہ ان کا کام مکمل ہو گیا۔اسرائیل فلسطین تنازع کے ممکنہ حل کے بعد اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال بھی سر اٹھائے گا۔ اس کے لیے پہلے ہی سعودی عرب اور پاکستان میں بحث شروع کرائی جاچکی ہے۔ سعودی عرب میں حکومت کے ماؤتھ پیس کی حیثیت رکھنے والے صحافی اسرائیل کو تسلیم کرنے کے دلائل پیش کرچکے ہیں

Sharing is caring!

Comments are closed.