بڑی بریکنگ نیوز: حکومت تحلیل ہوگئی

پشاور (ویب ڈیسک) ایک طرف تو وفاق میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت تمام تر مشکلات کے باوجود کافی فعال نظر آ رہی ہے تو دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کی یہ بات بھی قابلِ ستائش تھی کہ پچھلے پانچ سالوں میں اگر کسی صوبے میں ہمیں فعال


بلدیاتی نظام دیکھنے میں آیا تو وہ صوبہ خیبر پختونخواہ تھا۔ اب خیبرپختونخوا کی تمام مقامی حکومتیں تحلیل کرنے کا اعلامیہ جاری کردیا گیا۔ محکمہ بلدیات کے اعلامیہ کے مطابق 29 اگست سے تمام ضلع، تحصیل، ٹاؤن اور ہمسایہ کونسل تحلیل ہوچکے۔ ضلع ناظمین سمیت تمام بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات ختم کردیے گئے ہیں جبکہ اضلاع میں ڈپٹی کمشنرز، ٹی ایم اوز اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر مقامی حکومت کو اختیارات تفویض کردیے گئے ہیں۔ ذرائع محکمہ بلدیات کے مطابق بعض اضلاع میں ناظمین کی جانب سے بدستور مداخلت کی شکایات مل رہی ہیں۔ حکومت کا موجودہ بلدیاتی نظام کو ختم کرنے کا فیصلہ بھی سامنے آیا ہے۔ کچھ روز قبل خیبرپختون خوا میں بلدیاتی نمائندوں کی طرف سے چار سال میں کی گئی مبینہ بدعنوانی کی کہانی سامنے آئی تھی۔ موصول ہونے والی دستاویز کے مطابق مختلف اضلاع میں بلدیاتی نمائندوں نے قومی خزانے کو ایک کروڑ 23 لاکھ کا ٹیکہ لگایا۔ ویلیج کونسل ہری پور کے مختلف ناظمین نے 60 لاکھ 91 ہزار روپے خرد بردکئے جبکہ کرک ویلیج کونسل کے ناظم نے 19 لاکھ روپے کی کرپشن کی۔ وستاویز کے مطابق بنوں ویلیج کونسل کے ناظم نے کونسل کا دفتر اپنے حجرہ میں قائم کرکے کرایہ وصول کیا جبکہ تحصیل کونسل لکی مروت کے ناظم نے مویشی میلہ کا غیر قانونی ٹھیکہ دیا۔ لوکل گورنمنٹ کمیشن نے بدعنوانی میں ملوث ناظمین سے وصولی اور نااہل قرار دینے کی سفارش کی ہے۔ ذرائع محکمہ بلدیات کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ اور سفارشات وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو ارسال کردی گئی ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.